|
صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ
یہ نوازشیں، یہ عنایتیں، غم دو جہاں سےچھڑا دیا
غم مصطفی (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) ترا شکریہ
مجھےمرنا جینا سکھا دیا
وہ خدا ہےجس کا خیال بھی میری ہر پہنچ سےبلند ہے
وہ نبی (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کا حسن و جمال
ہےکہ خدا کا جس نےپتا دیا
میرا سوز لذت زندگی میرےاشک میری بہار میں
یہ کرم ہےعشق رسول (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کا
مجھےدرد نےبھی مزا دیا
کہاں میں کہاں تیری آواز کہاں میں کہاں تیری جستجو
تو قریب تھا تو قریب ہےجو حجاب تھا وہ اٹھا دیا
تو کریم کتنا عظیم ہےتو رؤف ہےتو رحیم ہے
کوئی بھیک مانگنےآگیا تو ضرورتوں سےسوا دیا
میں ہوں اپنےحال پہ مطمئن میں کسی کو کیسےبتائوں گا
یہ معاملات ہیں راز کےمجھےاُن (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم)
کےعشق نےکیا دیا
وہ گھڑی بھی آئےکہ خواب میں وہ دکھائیں اپنی تجلیاں
میں کہوں کہ آج حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم)
نےمرا بخت خفتہ جگا دیا |