|
اس مدنی رسالے میں دعوت اسلامی کے مروجہ طریقے کے
عین مطابق عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کا عقلی و نقلی دلائل کے
ساتھ دلچسپ انداز میں ثبوت پیش کیا گیا ہے۔
عاشقو ! خوشیاں مناؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
عاشقو ! خوشیاں مناؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
راستہ دل کو بناؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
آرہے ہیں باعث تخلیق عالم مومنو !
پلکیں راہوں میں بچھاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
سنّت رَبُ العُلٰی ہے جشن میلاد النبی
چپّے چپّے کو سجاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
نعمتیں کونین کی ہیں جس کا صدقہ بالیقیں
اس نبی کے گیت گاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
لینے آغوش کرم میں رَب کی رحمت چھا گئی
عاصیو! اب جھوم جاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
یاد آقا میں بہا کر دل سے اشک بے بہا
نار ، دوزخ کی بجھاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
خوش دلی سے خرچ کر کے مال و دولت چاہ میں
اپنی قسمت کو جگاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم
محفلیں ذکر نبی کی جا بجا کر کے عطا
رابطہ حق سے ملاؤ آمد محبوب ہے
صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم ۔
( علامہ محمد اکمل عطار قادری عطاری )
پہلے اسے پڑھئے
!
پیارے اسلامی بھائیو !
عقل مند سائل یقیناً اسے ہی کہا جائے گا کہ جو سخی کا دریائے کرم جوش میں دیکھ کر
دست سوال دراز کرنے میں دیر نہ کرے ، کیونکہ ایسے موقع پر کریم کی بارگاہ سے ان
انعامات کی بارش ہوتی ہے کہ جن کا عام حالات میں انسان تصور بھی نہیں کر سکتا ۔
عاشقوں کی عید یعنی عید میلاد النبی صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم بھی ایسا ہی
با برکت اور پر نور موقع ہے ، کہ جس کی آمد کی بناء پر تمام سخیوں کو سخاوت کی
خیرات تقسیم فرمانے والے ربِ سرکار عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا
دریائے سخاوت انتہائی جوش پر ہوتا ہے ، پس عقل مند و موقع شناس طالب کرم کو چاہئیے
کہ جشن ولادت کا اہتمام کرنے کے ذریعے ‘‘ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دست سوال دراز
کرنے اور بارگاہ الہٰی عزوجل سے دنیوی اور اخروی نعمتوں اور حتمی فلاح و کامرانی کا
مستحق بننے میں دیر نہ کرے اور اس سعادت عظمٰی کے حصول میں رکاوٹ بننے والے شیطانی
وسوسوں کو دل میں جگہ بھی نہ دے کیونکہ جہاں اس مبارک ترین موقع پر اللہ تعالٰی کی
رحمت کرم نوازی کے بہانے تلاش کر رہی ہوتی ہے وہیں شیطان بھی اپنے ‘‘ رفقاء‘‘ سمیت
، امّت سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اس نعمت سے مکمل طور پر فیض یاب
ہونے سے محروم و نامراد کرنے کیلئے مصروف عمل ہوتا ہے۔
الحمدللہ! “
سگ عطار “ نے بھی دلچسپ
انداز میں بزرگان دین کی اتباع میں، اللہ تعالٰی کی رحمت کے حصول اور بارگاہ رسالت
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں سرخروئی، امید شفاعت اور سادہ لوح اسلامی
بھائیوں اور بہنوں کو شیطانی دسترس سے محفوظ رکھنے کیلئے چند سطریں تحریر کرنے کی
سعادت حاصل کی ہے امید واثق ہے کہ اس انداز دلچسپ کو نگاہ پسندیدگی سے دیکھا جائے
گا “ اس رسالے کی تکمیل صرف بزرگوں کا فیض ہے، ہاں اس میں موجود اغلاط سگ عطار کا
کارنامہ ہے۔“
اس رسالے میں موجود کرادر ایک اعتبار سے حقیقت اور ایک حیثیت سے فرضی ہیں، بہرحال
مقصود کا حاصل ہو جانا دونوں صورتوں میں سے کسی کو بھی تسلیم کرلینے پر، اللہ
تعالٰی کی عطا سے متوقع ہے اس رسالے میں بارھویں شریف کے متعلق وسوسوں کا نہ صرف
جواب دیا گیا بلکہ عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم منانے کا طریقہ،
اس کی فضیلت، رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات و معجزات
اور آپ کی ولادت و رضاعت کے واقعات کو بھی مستند کتب تاریخ سے نقل کرنے کا شرف حاصل
کیا گیا ہے۔
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ اس کوشش مختصر کو اپنی
بارگاہ بےکس پناہ میں قبول و منظور فرمائے اور اسے امیر اہلسنت امیر دعوت اسلامی
حضرت علامہ مولانا ابوالبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ اور
قبلہ سید عبدالقادر “ باپو شریف “ مدظلہ العالی سمیت تمام اہلسنت اور مشائخ عظام
رضی اللہ تعالٰی عنہم کیلئے خصوصاً اور عوام اہلسنت کیلئے عموماً بلندیء درجات کا
سبب بنائے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
(ترجمہ): اے اللہ عزوجل قبول فرما لے ( یہ دعا ) امانت دار نبی کی عظمت اور بزرگی
کے وسیلے سے ان پر اللہ تعالٰی، رحمت اور سلامی نازل فرمائے)
طالب مدینہ و بقیع و مغفرت
محمد اکمل عطار قادری عطاری
3 صفرالمظفر 1420ھ
ایک نوجوان نماز
فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد سر جھکائے، نگاہیں نیچی کئے، انتہائی عقیدت و محبت کے
ساتھ اپنے محسن اعظم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام کے
نذرانے پیش کرتا ہوا، چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا، مسجد سے گھر کی جانب رواں دواں
تھا، ایک دینی ماحول سے وابستگی سے اللہ تعالٰی کی رحمت نے اسے مکمل طور پر اپنی
آغوش میں لیا ہوا تھا، چنانچہ اس کے سر پر عمامہ شریف اور زلفیں، چہرے پر داڑھی
شریف، بدن پر سفید لباس، سینے پر بائیں جانب جیب میں نمایاں طور پر مسواک شریف اور
چہرے پر “ عبادت پر استقامت اور گناہوں سے مکمل طور پر پرہیز کی برکت سے “ نورانیت
کی جلوہ گری تھی۔ اس سنتوں کے چلتے پھرتے نمونے پر نظر پڑتے ہی جاں نثاران مصطفٰی
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم یعنی صحابہءکرام علیہم الرضوان کی “ اتباع سنت میں
دیوانگی کی یاد “ تازہ ہو رہی تھی جب یہ متقی و باعمل نوجوان ایک باغ کے پاس
سے گزرا تو باغ میں موجود پانچ چھ فیشن ایبل نوجوانوں کی نگاہ اس پڑ گئی اس شرم و
حیاء کے پیکر کو دیکھ کر انھیں دل میں عجب سکون و اطمینان اترتا ہوا محسوس ہوا،
گناہوں بھری زندگی پر ندامت محسوس ہونے لگی اور اللہ تعالٰی کے “ اس نوجوان کو اپنے
انعامات کے لئے منتخب کر لینے پر “ رشک آنے لگا ان میں سے ایک نے اپنے دوستوں سے
کہا “ یار دیکھو! اس کے چہرے پر کتنا نور ہے، داڑھی
اس کے چہرے پر کتنی پیاری لگ رہی ہے۔“ دوسرا بولا “ ہاں واقعی بہت نورانی چہرہ ہے،
بس یار یہ سب اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی
فرمانبرداری کا انعام ہے، ہماری طرح تھوڑا ہے
کہ سارا سارا دن الٹے سیدھے کام کرتے پھرتے ہیں۔ “ اس کے خاموش ہونے پر
تیسرا بولا “ یار! اگر تم پسند کرو تو اس سے بارہ وفات ( پنجاب سائیڈ پر بارھویں
شریف کے لئے عوام الناس میں اکثر یہی اصطلاح معروف ہے ) کے بارے میں کچھ پوچھیں، کل
ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کسی دیندار آدمی سے اس کے بارے میں کچھ پوچھیں گے۔ “ سب نے اس
کی رائے پر رضا مندی کا اظہار کیا، چنانچہ ایک بولا “ ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے ویسے
بھی آج چھٹی کا دن ہے، اپنے پاس ٹائم بھی کافی ہے، اس سے معلوم کرتے ہیں اگر یہ کچھ
وقت دے دے تو مزہ آ جائے۔“ یہ طے کرنے کے بعد وہ سب اس نوجوان کے قریب پہنچ گئے ان
میں سے ایک نے جھجکتے ہوئے کہا “ بھائی صاحب! ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔“
نوجوان نے آواز سن کر پلٹ کر ان کی جانب اپنی سرمگیں
آنکھیں اٹھائیں، ان پر نگاہ پڑتے ہی اس کا دل غم کے گہرے سمندر میں غوطے کھانے لگا،
اسے “ امت کے غم میں رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے رونے، راتوں کو
جاگ جاگ کر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں امت کے گناہگاروں کے لئے مغفرت کا سوال کرنے
اور اس کے جواب میں امت کا بےمروتی اور احسان فراموشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معصوم
و غمخوار آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں نے منہ موڑ کر، ان کے دشمنوں
کے طریقے اپنانے نے تڑپا دیا بہرحال اس نے دل کو سنبھالتے ہوئے اور سنت کے
مطابق گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے، سب سے پہلے انھیں سلام کیا۔ سلام سنتے ہی وہ نوجوان
شرمندہ ہو گئے، جھینپتے ہوئے فوراً جواب دیا، نوجوان نگاہیں نیچی کئے ملائمت سے
گویا ہوا،
“ پیارے اسلامی بھائیو! الحمدللہ عزوجل، ہم مسلمان
ہیں اور اللہ تعالٰی کے سب سے محبوب ترین نبی ( علیہ الصوٰۃ و السلام ) کی امت میں
پیدا کئے گئے ہیں، چنانچہ ہمیں اپنی گفتگو کا آغاز بھی اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور اسلامی طریقے کے مطابق کرنا چاہئیے۔ حضور پرنور صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے “ سلام بات چیت کرنے سے پہلے ہے
“ (ترمذی) وہ “ اصل میں ہمیں خیال نہ رہا تھا، آئیندہ ضرور خیال رکھیں گے “ ایک
نوجوان نے مذید شرمندگی محسوس کرتے ہوئے جلدی سے کہا۔ “ چلیں آئندہ ضرور خیال رکھئے
گا، انشاءاللہ عزوجل برکت ہوگی حکم فرمائیے میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟“
نوجوان نے عذر قبول کرتے ہوئے حسب سابق شفقت سے کہا۔ ان میں سے ایک، سب کی طرف سے
نمائندگی کرتے ہوئے بولا، “ وہ کل ہم سب بارہ وفات کے بارے میں آپس میں بحث کر رہے
تھے اور اس کے متعلق بےشمار سوالات ہمارے ذہنوں میں موجود ہیں ہم چاہ رہے تھے کہ آپ
ہمیں کچھ وقت دے کر اس کے بارے میں تفصیل سے بتائیں اور ہمارے سوالوں کے جواب دے کر
ہمیں مطمئن کر دیں تو بہت مہربانی ہوگی، ویسے بھی آج چھٹی کا دن ہے، آپ کے پاس بھی
کچھ نہ کچھ وقت ضرور ہو گا۔ “ ان کی درخواست سن کر،
نوجوان کو دینی ماحول سے
وابستہ رہتے ہوئے طویل عرصے تک سنتوں کی خدمت کرنے کے باعث، یہ نتیجہ اخذ کرنے میں
دیر نہ لگی کہ ان نوجوانوں کا تعلق مسلمانوں کے اس گروہ سے ہے کہ جو گھروں میں دینی
ماحول نہ ہونے کی بناء پر علوم دینیہ سے محروم رہتے ہیں اور پھر اس پیاس کو بجھانے
کیلئے بعض اوقات ان لوگوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں کہ جن کا کام ہی یہ ہے کہ بھرپور
کوشش کرکے کسی بھی طرح مسلمانوں کے دل سے عظمت مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم نکال کر انھیں ذات نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور دیگر بزرگان دین
پر تنقید کا عادی بنا دیا جائے بلکہ ان کی سوچ کو اتنا ناپاک کر دیا جائے کہ وہ جب
بھی اپنے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر غور کریں تو صرف
اور صرف کوئی عیب یا کمی ڈھونڈنے کیلئے۔“ یہ خیال آتے ہی اس نے تہیہ کر لیا کہ
انشاءاللہ عزوجل جتنا بھی ممکن ہو سکا وسوسوں کی کاٹ کرکے ان کے دلوں میں اپنے
پیارے پیارے مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور بارھویں شریف کی
محبت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے راسخ کرنے کی کوشش کروں گا۔“ چنانچہ اس نے
جواب دیتے ہوئے کہا،
“ پیارے اسلامی بھائیو! ویسے تو میری مصروفیات بہت زیادہ ہیں اور علمی دولت کی کثرت
کا دعوٰی بھی نہیں کرتا، لیکن آپ کے جذبے کے پیش نظر کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکالوں گا
اور جتنا بھی ممکن ہو سکا آپ کے سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کروں گا، بہتر ہے کہ
کہیں بیٹھ جائیں تاکہ اطمینان سے گفتگو ہو سکے “ وہ نوجوان مرضی کے عین مطابق نتیجہ
نکلنے پر بہت خوش ہوئے بولے “ اندر باغ میں بیٹھتے ہیں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں گفتگو
کرنے کا بہت لطف آئے گا “ مشورے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سب ایک درخت کے نیچے پہنچے
اور پھر تمام نوجوان، باعمل نوجوان سے کچھ فاصلہ پر حلقے کی شکل میں بیٹھ گئے “
میرے خیال میں گفتگو شروع کرنے سے پہلے آپس میں تعارف نہ کروا لیا جائے ؟“ ان میں
سے ایک نوجوان بولا “ ہاں کیوں نہیں، سب سے پہلے میں ہی اپنا تعارف کرواتا ہوں،
میرا نام احمدرضا ہے اور حال ہی میں، میں نے کیمیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا ہے۔“
باعمل نوجوان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ نوجوان یہ سن کر بہت حیران ہوئے، ان میں سے
ایک گویا ہوا “ کیا آپ نے بھی دنیاوی تعلیم حاصل کی
ہے ؟“
احمد رضا: جی ہاں، لیکن آپ یہ سن کر اتنے حیران کیوں ہو گئے ؟
نوجوان: اس لئے کہ ہمارا تو خیال تھا کہ جتنے بھی داڑھی عمامے والے ہوتے ہیں، سب کے
سب دنیا سے بالکل الگ تھلگ رہتے ہیں، دنیاوی تعلیم سے نہ صرف نفرت رکھتے ہیں بلکہ
دوسروں کو بھی اس کے حاصل کرنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں، صرف اور صرف دینی کتابیں
ہی پڑھتے ہیں۔
احمدرضا: نہیں یہ بالکل غلط خیال ہے اور دین
داروں سے بدظن اور دور رکھنے کیلئے شیطان کی طرف سے مشہور کی ہوئی بات ہے کیونکہ نہ
تو دین اسلام ہمیں اس سے منع فرماتا ہے اور نہ کوئی مدنی ماحول اس کا مخالف ہے ہاں
اتنا ضرور ہے کہ یہ علوم، شریعت کے دائرے میں رہ کر سیکھے جائیں اور نیت کو اچھا
رکھا جائے اور ان کی وجہ سے دین اسلام کی پاکیزہ تعلیم کو حقیر و معمولی سمجھ کر
نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔ چنانچہ ہم بھی دنیاوی
علوم پڑھتے ہیں، لیکن ساتھ ساتھ دین اسلام سے متعلق ضروری معلومات حاصل کرنے کا
سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔
نوجوان: واہ، یہ تو بہت اچھی بات ہے، اچھا ہوا کہ آج آپ سے ملاقات کی برکت سے یہ
مسئلہ بھی حل ہو گیا اچھا اب میں اپنا اور باقی دوستوں کا تعارف بھی کرادوں،
میرا نام جاوید ہے، سب سے پہلے ٹونی ہے، پھر جانی ہے،
پھر پرویز ہے، یہ شان ہے اور آخر میں ساگر ہے یہ نام سن کر احمدرضا کے چہرے پر
افسردگی کے آثار نمایاں ہو گئے۔
جاوید: خیریت تو ہے آپ کچھ افسردہ دکھائی دینے لگے کیا ہماری کوئی بات ناگوار لگی
ہے ؟
احمدرضا: غمگین ہونے کی وجہ انشاءاللہ عزوجل بعد میں عرض کروں گا، آپ ارشاد فرمائیے
کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟
جاوید: میں ان سب کی طرف سے سوالات کرتا جاؤں گا آپ جوابات عنایت فرماتے جائیے۔
سوال: بارہ
وفات کیا ہے ؟ اور اسے یہ نام کیوں دیا گیا ہے ؟
احمدرضا: دراصل اسے بارہ وفات کہنا ہی نہیں
چاہئیے بلکہ اسے عید میلادالنبی صلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم“، “بارھویں شریف“، “عیدوں کی عید“ یا “عاشقوں کی عید“ کہنا چاہئیے
کیونکہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو محبوب کبریا
سیدالانبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دنیا میں جلوہ افروز ہوئے تھے اس لئے
اسے بارھویں شریف کہتے ہیں، اور چونکہ لغوی اعتبار سے عید وہ دن ہوتا ہے کہ جس میں
کسی صاحب فضل یا کسی بڑے واقعے کی یادگار منائی جاتی ہو (مصباح اللغات)
اور یقیناً ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم کی شخصیت سے زیادہ صاحب فضل شخصیت اور آپ کی ولادت مبارکہ سے زیادہ اہم
واقعہ اور کون سا ہو گا ؟ لٰہذا اسے “عید میلادالنبی“ یا “عیدوں کی عید“ یا “عاشقوں
کی عید“ بھی کہہ دیتے ہیں-
سوال: تو پھر اسے بارہ وفات کیوں کہتے ہیں ؟
احمدرضا: بعض
لوگوں کا خیال ہے کہ رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا وصال شریف بارہ
ربیع الاول کو ہوا چنانچہ اس اعتبار سے اسے بارہ وفات کہہ دیتے ہیں
لیکن صحیح یہی ہے کہ تایخ وصال “دو ربیع الاول“ ہے
جیسا کہ علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ
تعالٰی علیہ نے اپنی بخاری شریف کی شرح “فتح الباری“ میں طویل بحث کے بعد ثابت کیا
ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہئیے کہ خود بھی اسے بارہ وفات کہنے سے پرہیز کریں اور اس عظیم
الشان خوشی کے موقع کا یہ نام رکھنے سے دوسروں کو بھی محبت و شفقت کے ساتھ روکیں۔
کم از کم اپنے گھر والوں کو تو اس بارے میں ضرور سمجھانا چاہئیے۔
سوال: اس دن
مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئیے ؟
احمدرضا: صرف اس
دن ہی نہیں بلکہ ربیع النور کی پہلی تاریخ سے لے کر بارہ تک ان بارہ دنوں میں جتنا
اور جس طرح بھی ممکن ہو ہر امتی کو چاہئیے کہ نور مجسم فخر بنی آدم صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کیلئے خوشی کے اظہار کے مختلف طریقے اپنائے مثلاً
آپس میں مبارک باد دیں اپنے گھر دکان گلی محلہ اور مسجد کو قمقموں اور جھنڈوں سے
سجائیں، اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل یا کار وغیرہ پر بھی جھنڈے لگائیں، مٹھائیاں
تقسیم کریں، دودھ شربت پلائیں، کھانا کھلائیں، دوردپاک کی کثرت کریں، اجتماعات
منعقد کریں جس میں مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و کمالات و
معجزات اور ولادت مبارکہ، کے واقعات بیان کئے جائیں، خوب خوب نعتیہ محافل قائم
کریں، ہر قسم کے صغیرہ کبیرہ گناہ سے بچیں اور نیک امعال کی کثرت کی کوشش کریں
اور خصوصاً بارہ تاریخ کو گھر کو خوب صاف ستھرا
رکھیں، تازہ غسل کریں ہو سکے تو نئے کپڑے اور اگر استطاعت نہ ہو تو پرانے ہی مگر
اچھی طرح دھو کر پہنیں، آنکھوں میں سرمہ لگائیں، خوب اچھی طرح عطر ملیں، طاقت اور
قدرت ہو تو روزہ رکھیں اور اپنے علاقے میں نکلنے والے جلوس میں شرکت کرکے اللہ
تعالٰی کی طرف سے نازل ہونے والی بےشمار رحمتوں اور برکتوں سے حصہ طلب فرمائیں۔
سوال: کیا یہ سب کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے ؟
احمدرضا:دراصل اللہ تعالٰی نے ہمیں قرآن پاک
میں اپنی نعمتوں کو ظاہر کرنے اور ان پر اظہار خوشی کا حکم فرمایا ہےچنانچہ
سورہ الضحٰی میں ارشاد فرمایا “واما بنعمۃ ربک فحدث۔ اور اپنے رب کی نعمت کا خوب
چرچہ کرو۔“ (پارہ 30 آیت11) اور سورہ یونس میں فرمان عالیشان ہے
“قل بفضل اللہ وبرحمۃ فبذلک فلیفرحوا ط ھو خیر مما یجمعون ہ تم فرماؤ اللہ ہی کے
فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر
ہے۔ ( پارہ11 آیت58 )
ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمت کا چرچا کرنے اور اس پر خوشی
منانے کا صراحۃ حکم موجود ہے“ اور اس میں کسی کو بھی
ہرگز ہرگز شک و انکار نہیں ہو سکتا کہ سرور کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
کی دنیا میں آمد، اللہ تعالٰی کی عظیم نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے
چنانچہ حکم قرآن کے مطابق اس نعمت کا بھی ہمیں خوب چرچا کرنا چاہئیے اور اس پر خوب
خوب خوشیاں منانی چاہئیں اور اس اظہار خوشی کیلئے ہر وہ طریقہ اختیار کرنا جائز
ہونا چاہئیے کہ جسے شریعت نے منع نہ کیا ہو اور میں نے ابھی جو طریقے عرض کئے وہ
تمام کے تمام جائز ہیں، ان میں سے کوئی بھی چیز شرعی لحاظ سے حرام و ممنوع نہیں۔
سوال: ان آیات میں خوشی و مسرت کے اظہار کے لئے کسی خاص وقت کی قید نہیں لگائی گئی
تو پھر ہم ولادت کی خوشی کیلئے ربیع الاول کے بارہ دنوں کو ہی کیوں منتخب کرتے ہیں
؟
احمدرضا: مخصوص دنوں کو قلبی مسرت کے اظہار کے
لئے منتخب کرنا بھی قرآن پاک کے حکم اور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
کی سنت کے عین مطابق ہے کیونکہ اللہ تعالٰی نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا
وذکرھم بایام اللہ اور انھیں اللہ عزوجل کے دن یاد
دلا (پارہ 13 سورہ ابراہیم آیت5) اس آیت کریمہ کی تفسیر فرماتے ہوئے
حضرت نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
تفسیر خزائن العرفان میں ارشاد فرماتے ہیں “بعض مفسرین نے فرمایا کہ “ایام
اللہ“ سے وہ دن مراد ہیں جن میں اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں پر انعام فرمای
جیسا کہ بنی اسرائیل کے لئے من و سلوٰی اتارنے کا دن اور حضرت موسٰی علیہ السلام کے
لئے دریا میں راستہ بنانے کا دن وغیرہ (خازن و مدارک و مفردات راغب) (پھر فرمایا) “ان
ایام اللہ میں سب سے بڑی نعمت کے دن سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی
“ولادت و معراج“ کے دن ہیں ان کی یادگار قائم کرنا بھی اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔“
اور دنوں کو عبادت وغیرہ کے ذریعے خاص کر لینا، سنت اسی طرح ہے کہ
بخاری و مسلم شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی
عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف
لائے تو یہودیوں کو عاشورہ (یعنی دن محرم) کا روزہ رکھتے پایا دریافت فرمایا “یہ
کیا دن ہے کہ تم روزہ رکھتے ہو ؟“ عرض کی گئی “یہ عظمت والا دن ہے کہ اس میں موسٰی
علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تعالٰی نے نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو
ڈبو دیا، لٰہذا موسٰی علیہ السلام نے بطور شکر اس دن کا روزہ رکھا، چنانچہ ہم بھی
روزہ رکھتے ہیں “ (یہ سن کر مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے) ارشاد
فرمایا کہ موسٰی علیہ السلام کی موافقت کرنے میں بہ نسبت تمھارے، ہم زیادہ حق دار
ہیں و قریب ہیں“ چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور اس کا حکم بھی فرمای“
دیکھئے
اس حدیث پاک سے واضح ہو گیا کہ جس دن اللہ تعالٰی کے
کسی انعام کا نزول ہوا، اسے عبادت کیلئے مخصوص کرنا حضرت موسٰی علیہ السلام کی اور
آپ کی موافقت میں مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ کے حکم کی
تعمیل میں صحابہء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی بھی سنت مبارکہ ہے، چنانچہ
ربیع النور شریف میں مولود مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم کے انعام کے حصول کے جواب میں مخلتف عبادات کا اختیار کرنا بھی
یقیناً جائز اور باعث نزول رحمت ہے۔
سوال: جیسا کہ
آپ نے فرمایا کہ بعض لوگ 12 ربیع الاول کو یوم وفات مانتے ہیں تو احتیاط تو اس میں
ہے کہ ہم اس دن خوشیاں نہ منائیں کیونکہ اگر وہ بات بالفرض درست ہے تو وفات نبی کے
دن خوشی منانا تو بہت بری بات ہے ؟
احمد رضا: پیارے اسلامی بھائیو! دینی مسائل کے
حل کیلئے اپنی عقل استعمال کرنے سے پہلے اللہ تعالٰی اور اس کے محبوب صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں رجوع کرنا بےحد ضروری ہے
کیونکہ کثیر مسائل ایسے ہیں کہ جن میں عقل کا فیصلہ
کچھ اور ہوتا ہے جب کہ شریعت کا تقاضا اس کے مخالف نظر آتا ہے، ایسے موقع پر
سعادت مندی یہی ہے کہ ہم اللہ تعالٰی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم کے فرمان عالیشان پر “عقل کی آنکھیں بند کرکے“ عمل کریں اور اگر شیطان
کسی قسم کا وسوسہ ڈالے تو اس سے فوراً یہ سوال کریں کہ بتا ہماری “عقل
بڑی ہے یا اللہ تعالٰی اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا حکم
؟“ انشاءاللہ عزوجل شیطان فوراً بھاگ جائے گا اب اس مسئلے کے بارے میں عرض
ہے کہ اگر بالفرض یہ یوم وفات نبی صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم بھی ہوتا، تب بھی ہمارے لئے شرعی لحاظ سے اس میں خوشی منانا جائز
اور غم منانا ناجائز ہے کیونکہ شرعی قاعدہ قانون یہ ہے کہ شوہر کی وفات کے علاوہ
کسی اور کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں صرف شوہر کی موت پر بیوی کو
چار مہینے دس دن سوگ منانے کا حکم ہے چنانچہ بخاری و مسلم میں
ام المومنین ام حبیبہ اور ام المومنین زینب بنت حجش
رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی ہے کہ مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا “جو عورت اللہ تعالٰی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے تو اسے یہ
حلال نہیں کہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے سوائے شوہر کے کہ اس پر چار
مہینے دس دن سوگ کرے۔“ معلوم ہوا کہ شوہر کے علاوہ کسی کی بھی وفات پر تین
دن سے زائد غم منانا جائز نہیں چنانچہ مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے
ظاہری دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد، آپ کی وفات پر
بھی غم منانا یا سوگ کی علامت اختیار کرنا جائز نہیں ہونا چاہئیے اس کے برعکس چونکہ
نعمت کے اظہار اور اس پر خوشی منانے والی آیات میں وقت کی کوئی قید نہیں چنانچہ ان
کی رو سے اس دن خوشی منانا بالکل جائز ہے۔
احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہاں ایک نکتہ بیان کر دینا بھی نفع سے خالی نہ ہو گا
کہ اگر کسی ایک ہی دن پیدائش نبی بھی ہو اور وصال نبی بھی تو ہمیں انعام کے حصول پر
خوشی منانے کی اجازت تو ملتی ہے، لیکن غم منانے کا حکم کہیں نظر نہیں آتا۔ مثلاً
سیدکونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “بہترین دن کہ جس پر سورج
طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں آدم علیہ السلام پیدا ہوئے، اسی میں (دنیا میں)
اتارے گئے، اسی میں ان کی توبہ قبول ہوئی اسی میں آپ نے وفات پائی اور اسی میں
قیامت قائم ہوگی۔ (ابوداؤد و ترمذی) اور ایک مقام پر ارشاد فرمایا کہ “جمعہ
عید کا دن ہے اسے اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کے لئے عید کا دن بنایا ہے۔“ (ابن
ماجہ)
اب آپ غور فرمائیں کہ جمعہ حالانکہ یوم وفات بھی ہے لیکن اس کے باوجود مدنی مصطفٰی
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالٰی کے حکم سے اس دن کو ہمارے لئے عید
کا دن قرار دیا ہے اور یقیناً عید کے دن خوشیاں منائی جاتی ہیں اور اس کے برعکس غم
منانے کے بارے میں کوئی حکم موجود نہیں، نتیجہ یہ نکلا کہ “ہمارے
لئے اس دن خوشی منانی جائز اور غم منانے کا عقلی طور پر بھی کوئی جواز نہیں کیونکہ
شہہ دوسرا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “اللہ تعالٰی نے زمین پر
انبیاء علیہم السلام کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے لٰہذا اللہ عزوجل کے نبی
(علیہم السلام) زندہ ہیں، روزی دیتے ہیں۔ (ابن ماجہ) اس حدیث پاک سے معلوم
ہوا کہ
کل نفس ذائقۃ الموت ( ہرجان کو موت چکھنی ہے) ( پارہ 4 سورہ آل عمران آیت185 )
کے ضابطے کے تحت انبیاء علیہم السلام کچھ دیر کیلئے وفات پاتے ہیں اور پھر
اللہ تعالٰی کے حکم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو جاتے ہیں اعلٰی حضرت رضی اللہ
تعالٰی علیہ ارشاد فرماتے ہیں،
انبیاء کو بھی اجل آنی ہے
مگر ایسی کہ فقط آنی ہے
پھر اسی آن کے بعد ان کی حیات
مثل سابق وہی جسمانی ہے (حدائق بخشش)
اور جب تمام انبیاء علیہم
السلام سمیت ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ بھی ثابت
ہو گئی تو بارھویں پر غم منانے کی کون سی علت باقی رہ جاتی ہے ؟
جاوید: واقعی آپ نے ان جوابات کی روشنی میں تو چاہے بارہ تاریخ کو یوم ولادت یو یا
یوم وفات، بہر صورت خوشی منانی تو جائز ہو سکتی ہے لیکن اظہار کسی بھی صورت میں
جائز نہیں، اچھا اب ایک اہم سوال ہے۔
سوال: ہم نے سنا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،
کل بدعۃ ضلالۃ یعنی ہر بدعت گمراہی ہے (ابو داؤد) اور بدعت ہر وہ کام ہے جو ہمارے
رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد پیدا ہوا اور آپ صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا “کہ میری اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کو
لازم پکڑ لو (ترمذی۔ ابو داؤد) ان دونوں احادیث کی روشنی میں بارھویں شریف منانا،
گمراہی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی معلوم ہوتا ہے
کیونکہ یہ نہ تو سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں تھی اور
نہ ہی یہ، آپ ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کی یا صحابہء کرام رضی اللہ تعالٰی
عنہم کی سنت ہے ؟
احمدرضا: دیکھیں یہاں دو چیزیں ہیں۔
- وہ عبادات و اعمال و افعال، جو ان دنوں میں،
اظہار خوشی اور حصول برکت کیلئے اختیار کیے جاتے ہیں۔
- ان سب کو باقاعدہ اہتمام کے ساتھ ایک مخصوص دن اور مخصوص تاریخ میں اللہ تعالٰی
اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا و خوشنودی کیلئے جمع کر
دینا۔
اب ابتداءً پہلی چیز کو لیجئے یعنی وہ افعال جو ان دنوں میں اختیار کئے جاتے ہیں
مثلاً
- رحمت کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے
فضائل بیان کرنا۔
- آپ کی ولادت مبارکہ اور بچپن شریف کے واقعات ذکر کرنا۔
- آپ کے معجزات بیان کرنا۔
- نعتیہ محافل قائم کرنا۔
- ایصال ثواب کیلئے شربت و دودھ پلانا اور کھانا وغیرہ کھلانا۔
- قمقموں اور جھنڈوں وغیرہ سے گھر محلہ بازار و مسجد سجانا۔
- آپس میں مبارک باد و خوشخبری دینا۔
- عیدی تقسیم کرنا۔
- بوقت ولادت قیام کرنا۔
- روزہ رکھنا۔
- جلوس نکالنا۔
تو ان کے بارے میں عرض ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا
فعل نہیں کہ جس کی اصل زمانہ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں موجود نہ ہو
یا اسے صحابہء کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت قرار نہ دیا جا سکتا ہو،
چنانچہ پہلے میں اس کے بارے میں دلائل عرض کرتا ہوں لیکن یاد رکھئے کہ وقت کی قلت
کے باعث یہ تمام دلائل انتہائی اختصار کے ساتھ پیش کروں گا۔
(1) رحمت کونین
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کرنا :-
یہ عمل اللہ تعالٰی، اس کے پیارے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور
صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت مبارکہ ہے چنانچہ اللہ تعالٰی نے آپ ( صلی
اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل بیان کرتے ہوئے قرآن پاک میں ارشاد ہے “یایھا
الناس قد جاء کم برھان من ربکم“ اے لوگو! بے
شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل آئی۔“ (پارہ6، سورہ النساء، آیت 174)
یہاں برھان سے مراد رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم ہیں۔ دوسری جگہ ارشاد ہوا “وما
ارسلنک الا رحمۃ للعلمین“ اور ہم نے تمھیں نہ
بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کیلئے“ (پارہ17، سورۃ الانبیاء، آیت107) ایک اور
مقام پر فرمان عالیشان ہے “ولو انھم اذ ظلموا انفسھم
جآءوک فاستغفرواللہ واستغفراللہ الرسول لو جدواللہ توابا رحیماہ
اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب (
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) تمھارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ (عزوجل) سے
معافی چاہیں اور “رسول ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) ان کی شفاعت فرمائے“ تو
ضرور اللہ (عزوجل) کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔“ (پارہ5،
سورۃالنساء، آیت64)
اور خود معلم معظم نے اپنے فضائل اس طرح بیان فرمائے “بے
شک اللہ تعالٰی نے اولاد اسماعیل علیہ السلام میں سے کنانہ
کو اور کنانہ میں سے قریش کو اور قریش میں سے بنی
ہاشم کو اور بنی ہاشم میں سے مجھے چن لی“
(یاد رکھئے کہ عربوں کو چھ طبقات میں تقسیم کیا جاتا
ہے۔ (1) فصائل:- یہ فصیلہ کی جمع ہے، فصیلہ ایک کنبہ کو کہتے ہیں۔ (2) افخاذ:- یہ
فخذ کی جمع ہے، چند کنبوں کے مجموعے کو “فخذ“ کہتے ہیں۔ (3) بطون:- یہ بطن کی جمع
ہے، چند افخاذ کے مجموعے کا نام “بطن“ رکھا جاتا ہے۔ (4) عمائر:- یہ عمارۃ کی جمع
ہے، چند بطون کا مجموعہ “عمارۃ“ کہلاتا ہے۔ (5) قبائل:- یہ قبیلہ کی جمع ہے، چند
عمائر کے مجموعے کو “قبیلہ“ کہا جاتا ہے۔ (6) شعوب:- یہ شعب کی جمع ہے۔ چند قبائل
کا مجموعہ “شعب“ کہلاتا ہے۔ اب رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی طرف
نسبت کے اعتبار سے مثالوں کے ساتھ وضاحت یوں ہے کہ “عباس، فیصلہ ہے۔ ہاشم، فخذ ہے۔
قصی، بطن ہے۔ قریش، عمارہ ہے۔ کنانہ، قبیلہ ہے اور خزیمہ، شعب ہے۔ (مدارک۔ بتغیرم)(مسلم
شریف) دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا “میں بروز قیامت
اولاد آدم (علیہ السلام) کا سردار ہوں اور وہ پہلا شخص ہوں کہ جس کی قبر شق کی جائے
گی اور میں پہلا شفاعت کرنے والا اور سب سے پہلے شفاعت قبول کیا جانے والا شخص ہوں“
(مسلم شریف) مزید ارشاد فرمایا “ میں بروز قیامت جنت
کے دروازے پر پہنچوں گا اور دروازہ کھلواؤں گا تو خازن عرض کرے گا “ آپ کون ہیں ؟“
میں جواب دوں گا “محمد ( صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)“ پس وہ مجھ سے عرض کرے گا
کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آپ سے پہلے کسی کیلئے بھی یہ دروازہ نہ کھولوں۔“
(مسلم شریف)
اور یہ بھی فرمایا کہ “میرے والدین کبھی غیر شرعی طور
پر مجتمع نہ ہوئے اللہ عزوجل مجھے ہمیشہ پاک پشتوں سے پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل
فرماتا رہا اور اس نے مجھے ہر قسم کی نجاست و غلاظت جہالت سے پاک و صاف رکھا۔“
(الوفاء)
اور اس کے، صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کی سنت ہونے پر دلیل، بخاری شریف کی یہ
روایت ہے کہ “عطا بن یسار رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ
مجھے یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے
وہ اوصاف سنائیے جو تورات میں ہیں“ “فرمایا،
ہاں کیوں نہیں خدا عزوجل کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی قرآن
پاک میں بیان کردہ بعض صفات کا تذکرہ تورات میں بھی ہے چنانچہ تورات میں ہے “ اے
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ کو حاضر و ناظر، خوشخبری سنانے والا
اور ڈر سنانے والا بان کر بھیجا ہے اور آپ امی لوگوں کی پناہ گاہ ہیں، میرے بندے
اور رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہیں میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے آپ
بداخلاق اور سخت نہیں ہیں اور نہ آپ بازاروں میں چیختے ہیں آپ برائی کا بدلہ برائی
سے نہیں دیتے بلکہ معاف کر دیتے ہیں اور درگزر فرماتے ہیں اور اللہ تعالٰی آپ کو
وفات نہ دے گا جب تک کہ ملت کی گمراہی دور نہ ہو جائے اور وہ “لاالہ الا اللہ“ کہہ
لے اللہ تعالٰی آپ کے ذریعے نابینا آنکھوں کو بصارت، بہرے کانوں کو سماعت اور بھٹکے
ہوئے دلوں کو راستہ عطا فرمائے گا۔“
اور خاص بوقت ولادت ایک جن نے اللہ تعالٰی کی
عطا سے ان الفاظ میں اشعار کی صورت میں رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
کے فضائل بیان کرنے کی سعادت حاصل کی۔ “ترجمہ: میں
قسم کھاتا ہوں کہ کوئی عورت انسانوں میں نہ خود اتنی سعادت مند ہے اور نہ ہی کسی نے
اتنے سعادت مند اور شریف بچے کو جنم دیا ہے جیسا کہ بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والی
قابل صد افتخار، امتیازی اوصاف کی مالکہ، قبائل کی ملامت و طعن سے پاک و صاد اور
بزرگی و شرافت کی مالکہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے مقدس اور سعادت مند بچے
کو جنم دیا ہے جو تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہے اور احمد کے پیارے نام سے موسوم ہے
پس یہ مولود کس قدر عزت والا اور بلند و بالا مقام والا ہے۔“ (الوفاء)
(2) ولادت
مبارکہ اور بچپن شریف کے واقعات:-
یہ بھی سنت سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور سنت اصحاب رسول صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ہے چنانچہ ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “میری
والدہ نے (بوقت ولادت) یوں ملاحظہ فرمایا گویا کہ مجھ سے ایک عظیم نور نمودار ہوا
ہے، جس کی نورانیت سے شام کے محلات روشن ہو گئے، (الوفاء) اور حضرت انس رضی
اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ فرمایا “اللہ عزوجل کے
ہاں میری عزت و حرمت یہ ہے کہ میں ناف بریدہ پیدا ہوا اور کسی نے میری شرمگاہ کو نہ
دیکھا۔ (الوفاء) اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ “اپنی
والدہ بی بی شفاء رضی اللہ تعالٰی عنہا“ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے بتایا کہ “جس
وقت حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرزند پیدا ہوا تو وہ ختنہ شدہ تھا، پھر اسے
چھینک آئی تو اس پر میں نے کسی کہنے والے کی آواز سنی یرحمک اللہ (یعنی اللہ تعالٰی
تجھ پر رحم کرے) پھر مشرق و مغرب کے درمیان ہر
چیز روشن ہو گئی اور میں نے اس وقت شام کے محلات دیکھے میں ڈری اور مجھ پر
لرزہ طاری ہو گیا اس کے بعد ایک نور داہنی جانب سے ظاہر ہوا کسی کہنے والے نے کہا
“اسے کہاں لے گیا ؟“ دوسرے نے جواب دیا “مغرب کی جانب
تمام مقامات متبرکہ میں لے گی“ پھر بائیں جانب سے ایک نور پیدا ہوا، اس پر
بھی کسی کہنے والے نے کہا “اسے کہاں لے گیا؟“ دوسرے نے جواب دیا “مشرق
کی جانب تمام مقامات متبرکہ میں لے گی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے
سامنے پیش کیا انھوں نے اسے اپنے سینے سے لگایا اور طہارت و برکت کی دعاء مانگی“
یہ بات میرے دل میں ہمیشہ جاگزیں رہی یہاں تک کہ رحمت
دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے اور میں ایمان لے آئی اور اولین
و سابقین میں سے ہوئی۔“ (مدارج نبوت)
اور ولادت کریمہ کے حالات بیان کرنا خود ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کی والدہء محترمہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی بھی سنت ہے چنانچہ ارشاد
فرماتی ہیں کہ “جس رات میں نے اپنے لخت جگر اور نور
نظر کو جنم دیا، ایک عظیم نور دیکھا، جس کی بدولت شام کے محلات روشن ہو گئے حتٰی کہ
میں نے ان کو دیکھ لی“ (الوفاء) اور ارشاد فرمایا “جب
میں نے ان کو جنم دیا تو یہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف دیکھنے
لگے پھر ایک مٹھی مٹی لی اور سجدے کی طرف مائل ہو گئے، وقت ولادت آپ ناف بریدہ تھے
میں نے پردہ کیلئے آپ پر ایک مضبوط کپڑا ڈال دیا، مگر کیا دیکھتی ہوں کہ وہ پھٹ چکا
ہے اور آپ اپنا انگوٹھا چوس رہا رہے ہیں جس سے دودھ کا فوارہ پھوٹ رہا ہے۔“
(الوفاء)
اور اپنے بچپن کے حالات بیان فرماتے ہوئے مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
نے ارشاد فرمایا “ایک روز میں اپنے رضاعی (یعنی دودھ
شریک) بھائیوں کے ساتھ ایک وادی میں تھا کہ اچانک میری نگاہ تین شخصوں پر پڑی، ان
میں سے ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا دوسرے کے ہاتھ میں زمرد (قیمتی پتھر) کا طشت
تھا جو برف سے بھرا تھا پھر انھوں نے مجھے میرے ساتھیوں کے درمیان سے پکڑ لیا، میرے
سب ساتھی ڈر کر اپنے محلہ کی جانب بھاگ گئے پھر ان میں سے ایک نے مجھے نرمی سے زمین
پر لٹا دیا اور ایک نے میرے سینے کو جوڑوں کے پاس سے ناف تک چیرا، مجھے کسی قسم کا
درد وغیرہ محسوس نہ ہوا پھر پیٹ کی رگوں کو نکالا اور برف سے اچھی طرح دھویا، پھر
اپنی جگہ رکھ کر کھڑا ہو گیا، پھر دوسرے نے ہاتھ ڈال کر میرا دل نکالا، پھر اسے چیر
کر اس میں سے ایک سیاہ نقطے کو نکال کر پھینک دیا اور کہا، “یہ شیطان کا حصہ تھا“
پھر اسے اس چیز سے بھر دیا جو ان کے پاس تھی اس کے بعد اپنے دائیں بائیں کچھ مانگنے
کیلئے ارشاد کیا اور اسے ایک نور کی انگوٹھی دی گئی، جس کی نورانیت سے آنکھیں خیرہ
ہوتی تھیں، اس نے انگوٹھی سے میرے دل پر مہر لگا دی اور میرا دل نبوت و حکمت کے نور
سے لبریز ہو گیا، پھر دل کو اپنی جگہ پر رکھ دیا، میں اس مہر کی ٹھنڈک اب بھی اپنے
جوڑوں اور رگوں میں پاتا ہوں، پھر انھوں نے سینے کے جوڑوں سے ناف تک ہاتھ پھیرا تو
وہ شگاف مل گیا پھر مجھے آہستگی سے اٹھایا اور اپنے سینے سے لگایا اور میری دونوں
آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور کہنے لگے “اے اللہ عزوجل کے حبیب صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم! کچھ نہ پوچھئے، اگر آپ جانتے کہ آپ کیلئے کیا کچھ خیر وخوبی ہے تو
آپ کی آنکھیں روشن ہو جاتی اور آپ خوش ہوتے“ اس کے بعد وہ، مجھے وہیں چھوڑ کر آسمان
کی طرف پرواز کر گئے۔“ (مدارج النبوت)
(3) معجزات بیان
کرنا:-
یہ بھی اللہ عزوجل، مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور صحابہءکرام علیہم
الرضوان کی سنت مبارکہ ہے چنانچہ معجزہء معراج کو قرآن پاک میں ان الفاظ سے بیان
فرمایا گیا ہے “سبحان الذی اسرٰی بعبدہ لیلا من
المسجد الحرام الی المسجد الاقصٰی لذی برکنا حولہ لنریہ من ایتنا ط
پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد
حرام سے مسجد اقصی تک، جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں
دکھائیں“ (پارہ 15 سورہ بنی اسرائیل آیت1)
اور پیارے اسلامی بھائیو! ایک مقام پر کھڑے کھڑے ہزاروں میل دور کی چیزیں دیکھ لینا
بھی ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ہے۔ اپنے اسی
معجزے کا ذکر کرتے ہوئے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد
فرمایا “جب مجھے (سفر معراج کی تفصیل ذکر کرتے کے
بعد) قریش نے جھٹلایا (اور مجھ سے بیت المقدس کے بارے میں سوالات کئے) تو میں، حجر
میں کھڑا ہو گیا (یعنی اس جگہ میں کہ جہاں سے پہلی مرتبہ میرے اوپر چڑھنے کی ابتداء
ہوئی تھی) پس اللہ تعالٰی نے میرے لئے بیت المقدس کو ظاہر فرما دیا چنانچہ میں اس
کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی علامات کے بارے میں قریش کو خبر دینا شروع ہو گی“
(بخاری و مسلم)
اور حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ شاہ مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے
معجزے کا ذکر ان الفاظ میں ادا فرماتے رہے کہ (غزوہء
خندق کے دن) میں اپنی زوجہ کے پاس آیا اور کہا تیرے پاس کچھ کھانے کو ہے ؟ کیوں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے چہرہء انور پر سخت بھوک کے
آثار دیکھے ہیں“ (یہ سن کر) میری زوجہ نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع (ساڑھے
چار سیر) کے قریب جو تھے اور ہمارے پاس فربہ ایک بکری کا بچہ بھی تھا، پس میں نے
اسے ذبح کیا اور بیوی نے جو کا آٹا پیسا میں گوشت بان کر، دیگچی میں چڑھا کر، رسول
اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور عرض کی “یارسول
اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور میری زوجہ
نے جو کا آٹا پیسا ہے آپ چند صحابہ کو لے کر میرے گھر تشریف لے چلیں“ (یہ عرض سن
کر) حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے باآواز بلند فرمایا “جابر نے
کھانا تیار کیا ہے آؤ ان کے ہاں چلیں۔“ پھر مجھ سے فرمایا “میرے پہنچنے تک دیگچی کو
چولہے سے نہ اتارنا اور گوندھے ہوئے آٹے کو یوں ہی رکھنا“ پھر آپ، ایک ہزار
صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے ساتھ تشریف لائے آپ نے آٹے اور دیگچی میں اپنا
لعاب دہن اقدس ڈال دیا اور برکت کی دعاء فرمائی اور میری زوجہ سے فرمایا کہ روٹی
پکاؤ اور کسی ایک عورت کو اپنے ساتھ ملا لو، اور دیگچی سے گوشت نکالتی رہو مگر اس
میں جھانک کر نہ دیکھن“ خدا عزوجل کی قسم! ان
ہزار آدمیوں نے شکم سیر ہو کر کھایا اور دیگچی میں بدستور گوشت، جوش مار رہا تھا
اور آٹا بھی باقی تھا۔“ (بخاری و مسلم)
(4) نعتیہ محافل
قائم کرنا:-
نعتیہ محافل کا قیام بھی سنت مبارکہ ہے اور اس کا قائم کرنا خود مدنی آقا صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے چنانچہ “بخاری شریف“ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ
تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ مدنی مصطفٰی صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم، حضرت حسان رضی اللہ تعالٰی عنہ کیلئے مسجد میں منبر رکھتے،
جس پر وہ کھڑے ہو کر (اشعار کی صورت میں) رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی
طرف سے فخر کرنے میں (قریش پر) غالب ہوتے یا (قریش کی طرف سے معاذاللہ کی گئی ہجو
کے جواب میں شان رسالت کا) دفاع کرتے اور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
فرماتے “اللہ تعالٰی حضرت جبرئیل کے ذریعے حسان کی مدد فرماتا ہے جب تک کہ یہ اللہ
عزوجل کے رسول کی طرف سے فخر کرنے میں غالب ہوتے ہیں یا دفاع کرتے ہیں۔“
پیارے اسلامی بھائیو! یقیناً ان اشعار کو سننے کے لئے صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی
عنہم بھی جلوہ افروز ہوتے ہوں گے، اگر آپ تھوڑا سا
غور فرمائیں تو موجودہ نعتیہ محافل، اسی مدنی محفل کا عکس نظر آئیں گی۔“ اسی
طرح “الوفاء باحوال المصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم میں مذکور ہے کہ جب سوادبن قارب (رضی اللہ تعالٰی عنہ) اسلام قبول
کرنے کی غرض سے مدینہ منورہ میں بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں
حاضر ہوئے تو رحمت کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں چند نعتیہ
اشعار پڑھے جن کا ترجمہ یہ ہے “پس میں گواہی دیتا ہوں
کہ اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی رب عزوجل نہیں اور آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم) “تمام غیبوں اور رازوں“ پر اللہ تعالٰی کے امین ہیں اور میں اس بات کی شہادت
دیتا ہوں کہ “اے باکرامت اور پاکیزہ اسلاف کی نسل کریم! آپ (صلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم) تمام رسولوں کے مقابلے میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں قریب ترین وسیلہ
ہیں “لٰہذا“ اے سب رسولوں سے افضل و اکرم! جو احکام اللہ تعالٰی کی طرف سے آپ (صلی
اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوتے ہیں ہمیں ان کا حکم فرمائیے چاہے ان
احکام کی شدتیں ہماری جوانی کو بڑھاپے ہی میں تبدیل کر دیں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم اس دن میرے شفیع ہو جائیے گا کہ جس دن آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
کے علاوہ اور کوئی سفارش سوا بن قارب کو فائدہ نہ پہنچا سکے گی۔“ سودا بن
قارب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جب یہ ایمان افروز قصیدہ پڑھا اور شرف اسلام سے مشرف
ہوئے تو شہنشاہ دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کا چہرہء انور خوشی سے چودھویں کے چاند کی طرح چمکنے لگا اور
صحابہءکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم بھی انتہائی فرحت و مسرت کا اظہار فرمانے لگے۔“
اس روایت سے بھی بخوبی معلوم ہوا کہ “اجتماعی طور پر نعتیہ اشعار سننا ہمارے مدنی
آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے جانثار صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم
کی سنت ہے “حصول برکت کیلئے حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک نعتیہ
رباعی پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں آپ فرماتے ہیں۔
واجمل منک لم تر قط عینی
واکمل منک لم تلد النساء
خلقت مبرا من کل عیب
کانک قد خلقت کما تشاء
ترجمہ: یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! آپ سے زیادہ حسین و جمیل میری
آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے زیادہ صاحب کمال کسی
عورت نے جنا ہی نہیں، آپ ہر عیب سے پاک پیدا کئے گئے ہیں گویا کہ آپ ویسے ہی پیدا
کئے گئے جیسے آپ چاہتے تھے۔“
جاوید (مع رفقاء): واہ سبحان اللہ عزوجل! کتنے پیارے اشعار ہیں دل خوش ہو گئے۔
احمدرضا: جی
ہاں، بےشک۔ اس قسم کے اشعار بکثرت سننے چائیں الحمد للہ عزوجل! اس سے محبت رسول صلی
اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں بےحد اضافہ ہوتا ہے“ اچھا چلیں اب اگلی چیز
کے دلائل سنیں،
(5) شربت دودھ
پلا کر یا کھانا کھلا کر ایصال ثواب کرنا:-
اس کی اصل بھی صحیح احادیث سے سے ثابت ہے چنانچہ ابوداؤد اور نسائی شریف میں ہے کہ،
“حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کی خدمت میں عرض کی “یارسول اللہ صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم! میری والدہ فوت ہو گئی ہیں (تو ان کے ایصال ثواب کے لئے)
کونسا صدقہ افضل ہے ؟ رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا
“پانی“ چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک کنواں کھدوایا اور فرمایا “ھذہ
لام سعدیہ یہ سعد کی ماں کیلئے ہے۔“
پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ کسی کے لئے ایصال ثواب اور اس کا
کوئی نام رکھنا دونوں فعل جائز ہیں، چنانچہ بارھویں
شریف میں کھانے یا شربت وغیرہ کا ثواب اپنے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کی بارگاہ میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرنا اور اس کا نام “بارھویں شریف کی
نیاز“ وغیرہ رکھ دینا بالکل جائز ہے۔“
ضمناً عرض ہے کہ ہمارا بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم میں ایصال ثواب کرنا معاذاللہ عزوجل اس لئے ہرگز نہیں کہ جناب احمد
مختار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اس کی محتاجی و ضرورت ہے، بلکہ اسے تو آپ
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ رحمت کے مستحق ہو جانے کیلئے ایک ذریعہ
بنایا جاتا ہے، اس کو بالکل یوں ہی سمجھئے کہ جیسے کسی بادشاہ کی خدمت میں
اس کی رعایا میں سے کوئی بہت ہی غریب آدمی، ایک حقیر سا تحفہ پیش کرے۔ اب یقیناً
بادشاہ کو اس کے تحفے کی کوئی حاجت نہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ بادشاہ اس کے جواب
میں اپنی شان کے مطابق تحفہ ضرور عطا کرے گا۔
اور بہارشریعت میں درمختار، ردالمحتار اور فتاوٰی
عالمگیری کے حوالے سے درج شدہ یہ مسئلہ یاد رکھنا بھی بےحد مفید رہے گا۔
مسئلہ:- “رہا ثواب پہنچانا کہ جو کچھ عبادت کی اس کا
ثواب فلاں کو پہنچے، اس میں کسی عبادت کی تخصیص نہیں، ہر عبادت کا ثواب دوسرے کو
پہنچایا جا سکتا ہے۔“ نماز، روزہ، زکوٰۃ، صدقہ، حج، تلاوت قرآن، ذکر، زیارت قبور،
فرض و نفل، “ سب کا ثواب “زندہ یا مردہ“ کو پہنچا سکتے ہیں اور یہ نہ سمجھنا چاہئیے
کہ “فرض کا ثواب پہنچا دیا تو اپنے پاس کیا رہ گیا ؟“ کیونکہ ثواب پہنچانے سے اپنے
پاس سے کچھ نہیں جات۔“ اب اگلی چیز ہے،
(6) جھنڈوں
وغیرہ سے اپنے گھر و گلی و محلہ و مسجد کو سجان:-
آمد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر جھنڈے نصب کرنا اللہ عزوجل کی سنت
کریمہ ہے، چنانچہ بی بی آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
ولدت پاک کے واقعات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتی ہیں، “پھر میں نے دیکھا کہ پرندوں
کی ایک ڈار میرے سامنے آئی، یہاں تک کہ میرا کمرا ان سے بھر گیا ان کی چونچیں زمرد
کی اور ان کے بازو یاقوت کے تھے، پھر اللہ تعالٰی نے میری نگاہوں سے پردہ اٹھایا
حتٰی کہ میں نے مشارق و مغارب کو دیکھ لیا اور میں نے دیکھا کہ “تین جھنڈے“ ہیں جن
میں سے ایک مشرق میں، ایک مغرب میں اور ایک خانہء کعبہ کے اوپر نصب ہے۔“
(مدارج النبوت)
اسی طرح “الخصائص الکبرٰی“ میں نقل کردہ ایک روایت میں ہے کہ “سیدہ
آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے پوچھا گیا کہ بوقت ولادت آپ نے کیا دیکھا ؟“ ارشاد
فرمایا “جب مجھے درد شروع ہوا تو میں نے ایک گڑگڑاہٹ کی آواز سنی اور ایسی آوازیں
جیسے کچھ لوگ باتیں کر رہے ہوں پھر میں نے یاقوت کی لکڑی (یعنی ایسی لکڑی جس پر
یاقوت جڑے ہوئے تھے) میں کمخواب (ایک قسم کا ریشمی کپڑا جو زری کی تاروں کی آمیزش
سے بنایا جاتا ہے) کا جھنڈا، زمین و آسمان کے درمیان نصب دیکھا“ اور
اپنے محبوب کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی
عالم میں جلوہ نمائی کے وقت پورے جہان کو سجا دینا بھی رب کائنات عزوجل کی سنت
مبارکہ ہے چنانچہ حضرت عمرو بن قتیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ
میں نے اپنے والد سے سنا کہ “جب حضرت آمنہ رضی اللہ
تعالٰی عنہا کے یہاں پیدائش کا وقت آیا تو اللہ تعالٰی نے فرشتوں کو حکم دیا کہ
تمام آسمانوں اور جنتوں کے دروازے کھول دو اور تمام فرشتے میرے سامنے حاضر ہو
جائیں، چنانچہ فرشتے، ایک دوسرے کو بشارتیں دیتے ہوئے حاضر ہونے لگے، دنیا کے پہاڑ
بلند ہو گئے اور سمندر چڑھ گئے اور ان کی مخلوقات نے ایک دوسرے کو بشارتیں دیں۔
سورج کو اس دن عظیم روشنی عطا کی گئی اور اس کے کنارے پر فضا میں ستر ہزار حوریں
کھڑی کر دی گئیں جو رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی منتظر
تھیں اور اس سال آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی خاطر، اللہ
تعالٰی نے دنیا کی تمام عورتوں کیلئے نرینہ اولاد مقرر فرمائی اللہ تعالٰی نے حکم
فرمایا کہ “کوئی درخت بغیر پھل کے نہ رہے اور جہاں بد امنی ہو وہاں امن ہو جائے۔“
جب ولادت مبارکہ ہوئی تو تمام دنیا نور سے بھر گئی،
فرشتوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور ہر آسمان میں زبرجد (ایک خاص قسم کا زمرد)
اور یاقوت کے ستون بنائے گئے جن سے “ آسمان روشن ہو گئے “ ان ستونوں کو رسول
اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج دیکھا تو عرض کی گئی کہ “یہ
ستون آپ کی ولادت مبارکہ کی خوشی میں بنائے گئے تھے“
اور جس رات آپ کی ولادت مبارکہ ہوئی اللہ تعالٰی نے
حوض کوثر کے کنارے مشک وغیرہ کے ستر ہزار درخت پیدا فرمائے اور ان کے پھلوں کو اہل
جنت کی خوشبو قرار دیا۔ اور شب ولادت تمام آسمان والوں نے سلامتی کی دعائیں مانگیں۔“
(الخصائص الکبرٰی)
اسی طرح مدارج النبوت میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں
“حدیثوں میں آیا ہے کہ شب میلاد مبارک کو عالم ملکوت (یعنی فرشتوں کی دنیا) میں
نداء کی گئی کہ “سارے جہاں کو انوار قدس سے منور کر
دو“ اور زمین و آسمان کے تمام فرشتے خوشی و مسرت میں جھوم اٹھے اور داروغہء جنت کو
حکم ہوا کہ “فردوس اعلٰی کو کھول دے اور سارے جہان کو خوشبوؤں سے معطر کر دے“
(پھر فرماتے ہیں) مروی ہے اس رات کی صبح کو تمام بت اوندھے پائے گئے، شیاطین کا
آسمان پر چڑھنا ممنوع قرار دیا گیا اور دنیا کے تمام بادشاہوں کے تخت الٹ دئیے گئے
اور اس رات ہر گھر روشن و منور ہوا اور کوئی جگہ ایسی نہ تھی جو انوار سے جگمگا نہ
رہی ہو اور کوئی جانور ایسا نہ تھا جس کو قوت گویائی نہ دی گئی اور اس نے بشارت نہ
دی ہو، مشرق کے پرندوں نے مغرب کے پرندوں کو خوشخبریاں دیں۔“
سبحان اللہ (عزوجل) اب اس کے بعد ہے،
(7) آپس میں
مبارک باد و خوشخبری دینا:-
سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں جلوہ گری کے وقت آپس میں مبارک
باد دینا اور خوشخبریاں سنانا اور بشارتیں دینا فرشتوں کی سنت مبارکہ ہے۔ چنانچہ
ابھی تھوڑی دیر پہلے پیش کردہ حضرت عمرو بن قتیبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت کے
ان الفاظ پر غور فرمائیے “جب حضرت آمنہ رضی اللہ
تعالٰی عنہا کے یہاں پیدائش کا وقت آیا تو اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا کہ تمام فرشتے
میرے سامنے حاضر ہو جائیں چنانچہ فرشتے ایک دوسرے کو “بشارتیں دیتے ہوئے حاضر ہونے
لگے“ اور اسی روایت میں آگے ہے کہ “جب ولادت
مبارکہ ہوئی تو تمام دنیا نور سے بھر گئی اور فرشتوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی“
اور ابھی مدارج النبوت کی روایت میں بیان ہوا کہ “اور
کوئی جانور ایسا نہ تھا جس کو قوت گویائی نہ دی گئی ہو اور اس نے بشارت نہ دی ہو،
مشرق کے پرندوں نے مغرب کے پرندوں کو خوشخبریاں دی۔“
پیارے اسلامی بھائیو! پیش کردہ روایات کے ان حصوں پر غور کرنے کے بعد یہ نتیجہ
نکالنا کچھ زیادہ دشوار نہیں کہ “آمد مصطفٰی صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر مبارکباد دینا اور آپس میں بشارت و خوشخبری سنانا، اللہ
تعالٰی کو محبوب و مطلوب ہے کیونکہ فرشتوں اور جانوروں کی زبان پر ان کلمات کا جاری
ہونا یقیناً اللہ عزوجل کی طرف سے کئے گئے الھام کی وجہ سے تھا۔“
اب باری ہے بوقت ولادت قیام کی۔
(8) بوقت
ولادت قیام:-
کھڑے ہو کر استقبال محبوب باری تعالٰی کرنا، اللہ تعالٰی کے حکم سے فرشتوں کی سنت
مبارکہ ہے چنانچہ مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمۃ اللہ
تعالٰی علیہ، “جاءالحق“ میں تحریر فرماتے ہیں “مواہب لدنیہ اور مدارج النبوت
وغیرہ میں ذکر ولادت میں ہے کہ شب ولادت ملائکہ نے
آمنہ خاتون رضی اللہ تعالٰی عنہا کے دروازے پر کھڑے ہو کر صلوٰۃ و سلام عرض کیا،
ہاں ازلی راندہ ہوا (یعنی ہمیشہ دھتکارا ہوا) شیطان، رنج و غم میں بھاگا بھاگا
پھرا،
اس سے معلوم ہوا کہ میلاد سنت ملائکہ بھی ہے
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بوقت پیدائش کھڑا ہونا ملائکہ کا کام ہے اور بھاگا بھاگا
پھرنا، شیطان کا فعل۔ اب لوگوں کو اختیار ہے
چاہیں تو میلاد پاک کے ذکر کے وقت ملائکہ کے فعل پر عمل کریں یا شیطان کے۔“
اور بی بی آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا وقت ولادت کے واقعات بیان کرتے ہوئے ارشاد
فرماتی ہیں “پھر میں نے نور کا ایک بلند مینار دیکھا
اس کے بعد اپنے پاس بلند قامت والی عورتیں دیکھیں، جن کا قد عبد مناف کی لڑکیوں کی
مانند، کھجور کے درختوں کی طرح تھا، میں نے ان کے آنے پر تعجب کیا۔ اس پر ان میں سے
ایک نے کہا میں آسیہ، فرعون کی بیوی ہوں (آپ موسٰی علیہ السلام پر ایمان لے آئیں
تھیں)۔ دوسری نے کہا میں “مریم بنت عمران ہوں اور یہ عورتیں حوریں ہیں۔“
پھر میرا حال بہت سخت ہو گیا اور ہر گھڑی عظیم سے
عظیم تر آوازیں سنتی، جن سے خوف محسوس ہوتا۔ اسی حالت کے دوران میں نے دیکھا کہ
زمین آسمان کے درمیان “بہت سے لوگ کھڑے ہیں“ جن کے ہاتھوں میں چاندی کے آفتاب ہیں۔“
(مدارج النبوت)
اور ما قبل روایت میں عرض کیا جا چکا ہے کہ “سورج کو
اس دن عظیم روشنی دی گئی اور اس کے کنارے پر فضا میں “ستر حوریں کھڑی کر دی گئیں“
جو مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی منتظر تھیں“ اب اس کے بعد
روزہ رکھنے کی دلیل پیش خدمت ہے۔
(9) روزہ رکھنا
:-
بروز ولادت روزہ رکھنا محبوب کبریا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ
ہے چنانچہ مسلم شریف میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے پیر کے
دن کے روزے کا سبب دریافت کیا گیا (یعنی پوچھا گیا کہ آپ خاص طور پیر کے دن، روزہ
رکھنے کا اہتمام کیوں فرماتے ہیں) تو آپ نے ارشاد فرمایا اسی میں میری ولادت ہوئی
اور اسی میں مجھ پر وحی نازل ہوئی۔“
(10) عیدی تقسیم
کرنا:-
یوم ولادت عیدی تقسیم کرنا ہمارے اللہ عزوجل کی سنت کریمہ ہے پہلے عیدی کا مطلب جان
لیجئے کہ لغوی اعتبار سے “عید کے انعام“ کو عیدی کہتے
ہیں اب اس پر بطور دلیل میں، آپ کو وہی روایت یاد دلاؤں گا کہ جو گھر وغیرہ
کو سجانے کے بارے میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی تھی اور حضرت عمرو بن قتیبہ رضی
اللہ تعالٰی عنہ سے مروی تھی اس روایت کے یہ جملے یاد کیجئے،
(1) دنیا کے پہاڑ بلند ہو گئے (2) سورج کو اس دن عظیم
روشنی عطا کی گئی (3) دنیا کی تمام عورتوں کیلئے نرینہ اولاد مقرر فرمائی (4) حکم
فرمایا کہ کوئی درخت بغیر پھل کے نہ رہے (5) جہاں بدامنی ہے وہاں امن ہو جائے (6)
تمام دنیا نور سے بھر گئی (7) آسمان روشن ہو گئے ( 8 ) حوض کوثر کے کنارے مشک و
عنبر کے ستر ہزار درخت پیدا فرمائے اور ان کے پھلوں کو اہل جنت کی خوشبو قرار دیا۔“
اب دیکھتے جائیے کہ اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی
خوشی میں بطور عیدی کیا کیا چیزیں تقسیم فرمائیں چنانچہ
“پہاڑوں کو بلندی، سورج کی عظیم روشنی، عورتوں کو
نرینہ اولاد درختوں، کو پھل، دنیا والوں کو امن و نور، آسمان کو روشنی اور اہل جنت
کیلئے خوشبو کا تحفہ تقسیم ہوا۔
اور مدارج النبوت میں منقول روایت میں ہے “قریش کا یہ حال تھا کہ وہ شدید قحط اور
عظیم تنگی میں مبتلا تھے چنانچہ تمام درخت خشک اور تمام جانور نحیف و لاغر ہو گئے
تھے پھر (مولود پاک کی برکت سے) اللہ تعالٰی نے بارش
بھیجی، جہاں بھر کو سر سبز و شاداب کیا، درختوں میں تازگی آ گئی، خوشی و مسرت کی
ایسی لہر دوڑی کہ قریش نے اس سال کا نام سنۃ الفتح والا ابتہاج (یعنی روزی اور خوشی
کا سال) رکھا۔“
اس روایت سے بارش، سرسبز و شادابی، درختوں میں تازگی
اور خوشی و مسرت کی عیدی کی تقسیم کا ثبوت۔“ ملا۔
اور اب آخر میں جلوس نکالنے کی اصل بھی پیش خدمت ہے۔
(11) جلوس
نکالنا :-
جلوس نکالنے کے بارے میں اصل، مدارج النبوت میں درج شدہ یہ روایت ہے کہ جس میں بیان
کیا گیا ہے کہ جب مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم ہجرت فرما مدینہ منورہ کے گردونواح میں پہنچے تو بریدہ اسلمی (رضی اللہ تعالٰی
عنہ) اپنے قبیلے کے ستر لوگوں کے ساتھ، انعام کے لالچ میں رحمت عالم صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو گرفتار کرنے کیلئے حاضر ہوئے، لیکن کچھ گفتگو کے بعد آپ
نے مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا “آپ کون ہیں ؟“ فرمایا “
میں محمد بن عبداللہ، اللہ کا رسول ہوں “ آپ نے جیسے ہی نام اقدس سنا تو دل کی
کیفیات بدل گئیں اور اسلام قبول فرما لیا، آپ کے ساتھ، تمام ساتھیوں نے بھی اس
سعادت کو حاصل کیا پھر آپ نے عرض کیا “یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم“
مدینہ میں داخل ہوتے ہی وقت آپ کے ساتھ ایک جھنڈا ہونا چاہئیے۔“ اس کے بعد آپ نے
اپنے سر سے عمامہ اتارا اور اسے نیزے پر باندھ لیا اور (بحیثیت خادم) سیدالانبیاء
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آگے آگے چلنے لگے۔“
پیارے اسلامی بھائیو! چشم تصور سے اس منظر کو دیکھئے
کہ آگے آگے جھنڈے سمیت بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں، پھر مدنی آقا صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ اور آپ حضرات کے
پیچھے ستر صحابہء کرام علیہم الرضوان ہیں“ اور اب ذرا موجودہ دور میں نکلنے
والے جلوس کا تصور ذہن میں لیکر آئیں، آپ کو ان دونوں میں مشابہت کا محسوس کرنا،
بےحد آسان معلوم ہو گا۔“
پیارے اسلامی بھائیو! اس تمام تفصیل سے آپ نے بخوبی
جان لیا ہوگا کہ آج کل جس مروجہ طریقے سے بارھویں شریف کا انعقاد کیا جاتا ہے، اس
کی کوئی نہ کوئی اصل، زمانہء گزشتہ میں ضرور موجود رہی ہے۔
اب رہی دوسری چیز کہ “باقاعدہ مخصوص دنوں میں اس کا
اہتمام کرنا تو یہ حقیقت ہے کہ ولادت پاک پر جشن منانے کا باقاعدہ اہتمام نہ تو
زمانہء نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں تھا اور نہ ہی صحابہءکرام رضی اللہ
تعالٰی عنہم کے درمیان رائج تھا بلکہ اس کی ابتداء بعد کے زمانے میں ہوئی جیسا کہ
حضرت علامہ شاہ محمد مظہراللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ “تحدیث نعمت“ میں فرماتے ہیں
“بتلانا یہ ہے کہ عرس اور مولود کا ایسا مسئلہ نہیں جو اس زمانے کی پیداوار ہو بلکہ
تقریباً آٹھ سو سال سے متقدمین، (یعنی پہلے زمانے کے لوگ) مولود شریف کے جواز (یعنی
جائز ہونے) اور استحباب (یعنی پسندیدہ ہونے) پر متفق ہیں تو اس کی بدعت (بدعت سے
مراد سیئہ ہے۔ تفصیل انشاءاللہ عزوجل آگے آ رہی ہے) و حرام کہنا ان ہزار ہا جلیل
القدر حضرات پر طعن کرنا ہے جو گناہ عظیم ہے، اللہ تعالٰی مسلمانوں کو اس گناہ سے
محفوظ رکھے، رہا یہ خدشہ کہ جب حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اور صحابہء رضی
اللہ تعالٰی عنہم کے زمانے میں ایسی مجالس نہیں ہوتی تھیں تو پھر ایسی مجالس کی
ترویج کیوں کی گئی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایسے افعال کیلئے ضرورتیں مجبور کرتی
ہیں، جس طرح قرآن کی عبارت پر اعراب نہ تھے، جب یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ عجمی لوگ
(غیر عرب) اسے کیسے پڑھیں گے، تو اعراب لگائے گئے۔“ احادیث نہ لکھی جاتی تھیں (یعنی
باقاعدہ اہتمام کے ساتھ کتابی شکل میں) بلکہ لکھنے کی ممانعت تھی لیکن جب یہ دیکھا
کہ اب لوگوں کے حافظے ضعیف ہو گئے تو احادیث لکھی گئیں، اسی طرح بکثرت ایسی چیز
پائیں گے جن کا وجود قرن اول (یعنی پہلے زمانے) میں نہ تھا، بعد میں بضرورت نکالی
گئیں یہی حال اس کا سمجھئے، پہلے زمانے میں شوق تھا اور لوگ، علماء کی مجالس میں جا
کر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فضائل و مناقب اور آپ کی ولادت کے
واقعات سن کر اپنے ایمان کو تازہ کرتے اور آپ کے ساتھ محبت کو ترقی دیتے تھے جو
مولٰی تعالٰی کو مطلوب تھا، لیکن جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کے اس شوق میں کمی آ گئی،
حالانکہ اس کی سخت ضرورت ہے تو اس کو دیکھتے ہوئے سب سے پہلے اس کارخیر کی ابتداء
شہر موصل میں حضرت عمرو بن محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کی جو کہ اکابر علماء میں
سے تھے جیسا کہ ابوشامہ نے لکھا ہے، اس کے بعد بادشاہوں میں سے اول بادشاہ ابوسعید
مظفر نے مولود شریف تخصیص و تعین کے ساتھ اس شان کے ساتھ کیا کہ اکابریں علماء و
صوفیاء کرام اس محفل میں بلا نکیر (بغیر کسی انکار کے) شریک ہوتے تھے تو گویا تمام
اکابرین کا جواز و استحباب پر اتفاق ہو گیا تھا۔
یہ بادشاہ ہر سال ربیع الاول شریف میں “تین لاکھ
اشرفیاں“ (یعنی سونے کے سکے) لگا کر یہ محفل کیا کرتا تھا۔ اس کے زمانے میں ایک
عالم حافظ ابوالخطاب بن وجیہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تھے، جن کے علم کی علامہ زرقانی
رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اپنی تصانیف میں بڑی تعریف کی ہے، انھوں نے سلطان ابوسعید
کیلئے بیان مولودشریف میں ایک کتاب “کتاب التنویر فی مولد سراج المنیر“ تصنیف کی،
جس کو خود ہی سلطان کے سامنے پڑھا، سلطان بڑا خوش ہوا اور آپ کو ہزار اشرفی انعام
میں دی، اس کے بعد تو دنیا کے تمام اطراف و بلاد (یعنی شہروں قصبوں) میں ماہ ربیع
الاول میں مولود شریف کی محفلیں ہونے لگیں، جس کی برکت سے مولائے کریم کا فضل عمیم
(یعنی کامل فضل) ظاہر ہونے لگا۔
پیارے اسلامی بھائیو! بیان کردہ تفصیل سے بخوبی معلوم ہو گیا کہ
بارھویں شریف کا باقاعدہ اہتمام، زمانہ نبوی صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے کافی عرصہ بعد شروع ہوا لٰہذا اس اعتبار سے تسلیم کیا
جائے گا کہ یہ بدعت ہے۔ لیکن اس کے بدعت ثابت ہوتے ہی اس پر حرام و گمراہی کا فتوی
لگانا درست ہے یا نہیں ؟ اس کا درست فیصلہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب کہ پہلے ہم بدعت
کے شرعی معنی، اس کی اقسام اور پھر اقسام میں سے ہر قسم کا حکم معلوم کریں اور پھر
دیکھیں کہ موجودہ مروجہ بارھویں شریف کا انعقاد، بدعت کی کس قسم میں داخل ہے۔
چنانچہ اب میں آپ کی خدمت میں یہ تمام ضروری تفصیل بہت آسان الفاظ میں عرض
کرتا ہوں، حسب سابق اسے بھی بغور سماعت فرمائیے، سب سے پہلے بدعت کے شرعی معنی حاضر
خدمت ہیں۔
بدعت کے شرعی معنی
:-
“ہر وہ چیز جو سیدالانبیاء
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہء مبارکہ کے
بعد ایجاد ہوئی بدعت ہے، یہ عام ہے کہ وہ چیز دینی ہو
یا دنیاوی، اس کا تعلق عقائد سے ہو یا اعمال سے۔“
دلیل :- اس تعریف
پر دلیل رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا
یہ فرمان عالیشان ہے “کل محدثۃ بدعۃ“ یعنی ہر نئی
ایجاد کی ہوئی چیز بدعت ہے۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی،
ابن ماجہ)
یہ بھی خیال رکھئے گا کہ
بدعت کہ تعریف میں “زمانہء نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ
وآلہ وسلم کی قید“ لگائی گئی ہے، چنانچہ صحابہءکرام
رضی اللہ تعالٰی عنہم کے زمانہء پاکیزہ میں ایجاد شدہ
نئے کام کو بھی بدعت ہی کہا جائے گا جیسا کہ “بخاری
شریف“ میں ہے کہ جب رمضان المبارک میں، حضرت عمر فاروق
رضی اللہ تعالٰی عنہ نے لوگوں کو تراویح کی ادائیگی
کیلئے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پیچھے
جمع فرمایا، اور تشریف لاکر لوگوں کو جماعت سے نماز
ادا کرتے دیکھا تو ارشاد فرمایا “نعم
البدعۃ ھذہ“ یہ (بڑی جماعت) اچھی بدعت ہے۔“
چونکہ زمانہء سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں
بیس رکعت تراویح “باقاعدہ جماعت کے ساتھ“ نہ ہوتی تھیں
بلکہ آپ نے اپنے زمانہ خلافت میں اس کا انتظام فرمایا،
لٰہذا اسے بدعت سے تعبیر فرمایا اور اس طرح دو مسئلے
بخوبی ثابت ہو گئے،
- صحابہءکرام علیہم
الرضوان کے زمانہء مبارکہ میں نیا پیدا شدہ کام بھی
بدعت ہی کہلائے گا اگرچہ عرفاً اسے سنت صحابہ رضی اللہ
تعالٰی عنہ کہا جاتا ہے۔
- ہر بدعت حرام و گمراہی
نہیں، ورنہ معاذاللہ، ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ
کا حرام کام کرنا اور بقیہ صحابہءکرام علیھم الرضوان
کا اس پر اتفاق کرکے گناہ میں تعاون کرنا ثابت ماننا
پڑے گا حالانکہ یہ ناممکنات میں سے ہے۔ بدعت کی
شرعی تعریف جاننے کے بعد اب اس کی اقسام کے بارے میں
بھی سماعت فرمائیے کہ اس کی ابتداء دو قسمیں ہیں۔
- بدعت اعتقادی
- بدعت
عملی
(1) بدعت اعتقادی
:-
اس سے مراد برے عقائد ہیں
جو مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد
ایجاد ہوئے مثلاً یہ عقیدہ رکھنا کہ معاذاللہ، اللہ
تعالٰی جھوٹ بول سکتا ہے یا ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین نہیں بلکہ کوئی اور نبی
اب بھی آ سکتا ہے یا بے عیب و بےمثال آقا صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا ہم مثل ممکن ہے یا ہمارے نبی
علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے بڑے بھائی کی طرح ہیں یا
شیطان و ملک الموت علیہ السلام کا علم، سرکار صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علم مبارک سے زیادہ ہے وغیرہ
وغیرہ۔
دلیل:-
اس قسم کیلئے دلیل مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کا یہ فرمان عالیشان ہے “من
احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھورد۔“ جس نے ہمارے دین
میں کوئی ایسی بات نئی ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو
وہ باطل و مردود ہے۔ (بخاری و مسلم) ہاں نئی
بات سے مراد نئے عقیدے ہیں۔“
(2) بدعت عملی :-
وہ نیا کام جو مدنی آقا
صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانہءپاک کے بعد
پیدا ہوا، چاہے وہ کام دینی ہو یا دنیاوی“ پھر
اس کی دو قسمیں ہیں (1)
بدعت حسنہ (2) بدعت سیئہ
- بدعت حسنہ : ہر وہ نیا
کام جو نہ تو خلاف سنت ہو اور نہ ہی کسی سنت کے مٹانے
کا سبب بنے۔
- بدعت سیئہ: ہر وہ نیا کام جو کسی سنت کے خلاف ہو یا
کسی سنت کے مٹانے کا سبب بن جائے۔
ان دو قسموں کی دلیل
:
ان پر دلیل ہمارے مدنی آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کا یہ فرمان عالیشان ہے “جو
اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے تو اس کیلئے اپنے عمل
کا اور جو اس کے بعد اس پر عامل ہوں گے ان سب کے اعمال
کا ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کے اجر میں سے کچھ
کمی ہو اور اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے تو اس
پر اپنی بدعملی کا اور ان سب کی بد اعمالیوں کا گناہ
ہے کہ جو اس کے بعد اس پر عامل ہوں گے، بغیر اس کے کہ
ان کے گناہوں میں سے کچھ کمی ہو (مسلم شریف) اب آخر میں یاد رکھئے کہ بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ کی بھی
مزید کچھ قسمیں ہیں چنانچہ
بدعت حسنہ کی تین قسمیں ہیں (1)
بدعت مباحہ (2) بدعت مستحبہ (3) بدعت واجبہ
اور بدعت سیئہ کی
دو قسمیں ہیں
(1) بدعت مکروہہ (2) بدعت
محرمہ
اب بالترتیب ان سب کی تعریفیں اور مثالیں بھی سماعت فرما
لیں۔
بدعت مباحہ:
ہر وہ نیا کام جو شریعت
میں منع نہ ہو اور بغیر کسی نیت خیر کے کیا جائے جیسے
جائز طریقوں کے ساتھ پاکستان کا یوم آزادی منانا، نئے
نئے کھانے مثلاً بریانی، کوفتے، زردہ وغیرہ۔
(2) بدعت مستحبہ:
ہر وہ نیا کام جو شریعت
میں منع نہ ہو اور کسی نیت خیر کے ساتھ کیا جائے۔
مثلاً اسپیکر میں اذان دینا، بارھویں شریف اور بزرگان
دین کے اعراس کی محافل قائم کرنا وغیرہ۔
(3) بدعت واجبہ :
ہر وہ نیا کام جو شریعت
میں منع نہ ہو اور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع
ہو یا وہ نیا کام جو کسی فرض یا واجب کو پورا کرنے یا
اسے تقویت دینے والا ہو جیسے قرآن مجید پر اعراب
لگانا، علم صرف و نحو پڑھنا اور دینی مدارس قائم کرنا
وغیرہ۔
(4) بدعت مکروھہ :
وہ نیا کام جو سنت کے
مخالف ہو اب اگر کسی سنت غیر مؤکدہ (وہ سنت ہے کہ جس
کے ترک کو شریعت ناپسند رکھے لیکن یہ ناپسندیدگی اس حد
تک نہ ہو کہ ترک پر وعید عذاب بیان کی گئی ہو) کے
مخالف ہو تو یہ بدعت مکروہ تنزیہی ہے (سنت غیر مؤکدہ
کے مخالف عمل کو کہتے ہیں) اور اگر سنت مؤکدہ (وہ سنت
کہ جسے سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے
ہمیشہ کیا ہو البتہ بیان جواز کے لئے کبھی ترک بھی
فرمایا ہو۔ یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی مگر
جانب ترک بالکل بند نہ فرمائی) چھوٹی تو یہ بدعت اساءت
(سنت مؤکدہ کے مخالف عمل کو کہتے ہیں) مثلاً سلام کے
بجائے ہائے ہیلو سے کلام کی ابتداء کرنا، عادہً ننگے
سر رہنا وغیرہ۔
(5) بدعت محرمہ :
وہ نیا کام جو کسی فرض یا
واجب کے مخالف ہو جیسے داڑھی منڈانا یا ایک مٹھی سے
چھوٹی رکھنا وغیرہ۔
ان سب پر دلیل :
ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ، مرقاۃ شرح مشکوٰۃ
میں فرماتے ہیں “بدعت یا
تو واجب“ ہے جیسے علم نحو کو سیکھنا اور اصول فقہ کا
جمع کرنا اور یا محرمہ ہے جیسے جبریہ مذہب (اس فرقہ کا
اعتقاد ہے کہ انسان کو اپنے اعمال و افعال پر کوئی
اختیار نہیں ہے) اور یا مستحب ہے جیسے مسافر خانوں اور
مدرسوں کا ایجاد کرنا اور ہر وہ اچھی بات جو پہلے
زمانے میں نہ تھی اور جیسے عام جماعت سے تراویح پڑھنا
اور یا “مکروہہ“ ہے جیسے مسجدوں کو فخریہ زینت دینا یا
مباحہ فجر کی نماز کے بعد مصافحہ کرنا اور عمدہ کھانوں
اور مشروبات میں وسعت کرنا۔“
پیارے اسلامی بھائیو !
معلوم ہوتا ہے کہ اس تفصیل کی بناء پر سب کچھ ذہن میں
گڈ مڈ ہو گیا ہے، چلیں میں آپ کے سامنے مختصر ان
تقسیمات کا خلاصہ عرض کر دیتا ہوں۔
یاد رکھیں کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں۔
(1) بدعت اعتقادی (2) بدعت عملی
پھر بدعت عملی کی پانچ قسمیں ہیں
(1) بدعت مباحہ (2) بدعت مستحبہ (3) بدعت واجبہ (4) بدعت
مکروہہ (5) بدعت محرمہ
“ اب خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے کہ
سرکار دو عالم صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے فرمان عالیشان “(کل بدعۃ
ضلالۃ“) سے مراد یا تو “بدعت اعتقادی“ ہے اور یا پھر
“بدعت مکروہہ“ اور “بدعت محرمہ“ اور اب جب کہ بدعت کی
تمام اقسام اور ان کا حکم بالکل واضح ہو گیا تو یہ
فیصلہ کرنا کچھ بھی دشوار نہ رہا کہ “بارھویں شریف“ کا
انعقاد، بدعت مستحبہ ہونے کی وجہ سے سعادت مندی اور
باعث اجر و ثواب ہے۔“
پیارے اسلامی بھائیو! ان
تمام دلائل کے علاوہ ایک اور دلیل سے بھی بارھویں شریف
کے جواز کو ثابت کرنا ممکن ہے اس کی تفصیل یہ کہ یہ
ضابطہ ہمیشہ ذہن میں رکھئے کہ “کسی چیز کو جائز قرار
دینے کے لئے دلیل درکار نہیں ہوتی بلکہ ناجائز ثابت
کرنے کیلئے دلیل کا مطالبہ کیا جاتا ہے“ کیونکہ تمام
چیزوں میں اصل یہ ہے کہ وہ مباح (جس چیز کا کرنا نہ
کرنا برابر ہو یعنی نہ تو کرنے پر ثواب ہے اور نہ ہی
چھوڑ دینے پر کوئی گناہ ہے) ہیں جیسا کہ “ردالمحتار“
میں ہے “المختار ان الاصل لاباحۃ عند الجمھور من
الحنفیۃ والشافعیۃ جمھورا حناف و شوافع کے نزدیک مختار
مذہب یہ ہے کہ (“ تمام چیزوں میں) اصل، مباح ہونا ہے“
چنانچہ اب اگر ہم کسی چیز کو ناجائز و حرام کہنا چاہیں
تو پہلے ہمیں قرآن و حدیث سے اس کی ممانعت پر دلیل پیش
کرنا لازم ہوگا، مثلاً اگر کوئی پوچھے کہ “ آپ شراب
پینے، جوا کھیلنے، محرمات سے نکاح کرنے، مرادر کتے بلی
حشرات الارض وغیرہ کھانے کا ناجائز و حرام کیوں کہتے
ہیں ؟“ تو یقیناً یہی جواب دیا جائے گا کہ، “ان سب کو
قرآن و حدیث میں منع کیا گیا ہے“
اب جو بدبخت معاذاللہ اپنے
نبی علیہ السلام کی خوشی منانے کو ناجائز و حرام کہے
تو ضابطے کے مطابق اس سے مطالبہ کیا جانا چاہئیے کہ
“اچھا اگر واقعی ایسا ہے تو قرآن و حدیث سے اس کی
ممانعت کی دلیل پیش کیجئے۔“ آپ دیکھیں گے کہ انشاءاللہ
عزوجل قیامت تک ممانعت پر دلیل لانے سے عاجز رہے گا
اورا س کا عاجز آ جانا ہی اس بات کی دلیل ہو گا کہ
مولود مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا جشن
منانا بالکل جائز و مستحن ہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کو یہ
ناپاک جملے زبان سے نکالنے سے ڈرنا چاہئیے کیونکہ ان
کا یہ فعل اللہ عزوجل کی سخت گرفت کا باعث بن سکتا ہے
انھیں چاہئیے کہ خوب ٹھنڈے دل کیساتھ ان آیات پر غور
کریں اللہ تعالٰی کا فرمان عالیشان ہے
یایھاالذین امنو لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم ولا
تعتدوا ط ان اللہ لا یحب المعتدین ہ اے ایمان والو!
حرام نہ ٹھہراؤ وہ ستھری چیزیں کہ اللہ (عزوجل) نے
تمھارے لئے حلال کیں اور حد سے نہ بڑھو، بےشک حد سے
بڑھنے والے اللہ (تعالٰی) کو ناپسند ہیں (
پارہ7 سورۃ مائدہ آیت87 ) اور ارشاد فرمایا “قل
ارءیتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما و
حلٰلا ط قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ہ تم
فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ (عزوجل) نے تمھارے لئے
رزق اتارا، اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال
ٹھہرالیا، تم فرماؤ کیا اللہ تعالٰی نے اس کی تمھیں
اجازت دی یااللہ (عزوجل) پر جھوٹ باندھتے ہو
(سورہ یونس پارہ 11 آیت 59)
تفسیر خزائن العرفان میں اسی آیت پاک کے تحت ہے
“اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کو اپنی طرف سے
حلال یا حرام کرنا ممنوع اور اللہ تعالٰی پر “جھوٹ
باندھنا“ ہے آج کل بےشمار لوگ اس میں مبتلا ہیں کہ
ممنوعات کو حلال کہتے ہیں اور مباحات کو حرام۔ بعض
سود، تصویروں، کھیل تماشوں، عورتوں کی بےپردگیوں، بھوک
ہڑتال جو “خودکشی“ ہے، کو حلال ٹھہراتے ہیں اور بعض
حلال کو حرام ٹھہرنے پر مصر ہیں جیسے محفل میلاد،
فاتحہ، گیارھویں شریف وغیرہ اسی کو قرآن پاک میں اللہ
تعالٰی پر افتراء کرنا بتایا۔“ اور انھیں یہ حدیث پاک
بھی خوب اچھی طرح یاد رکھنی چاہئیے کہ “مدنی آقا صلی
اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے گھی، پنیر اور پوستین
کے بارے میں سوال کیا گیا (کہ ان کا استعمال ہمارے لئے
جائز ہے یا نہیں)“ تو آپ نے ارشاد فرمایا “حلال وہ ہے
جسے اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام
وہ ہے جسے اللہ تعالٰی نے اپنی کتاب میں حرام کیا، اور
جس چیز کے بارے میں خاموشی اختیار فرمائی تو وہ ان
چیزوں میں سے ہے کہ جنھیں معاف فرمایا گیا ۔
(ترمذی)
اس تمام بحث و تفصیل کا
نتیجہ بھی یہی نکلا کہ چونکہ بارھویں شریف کی ممانعت
نہ تو قرآن سے ثابت ہے اور نہ حدیث سے چنانچہ یہ بالکل
جائز و مستحب و باعث حصول برکات و بلندیء درجات ہے۔“
جاوید: اللہ تعالٰی کا بڑا شکر ہے کہ آپ کے دلائل سے
ہمارے دلوں میں موجود تمام سوالوں کا جواب حاصل ہو گیا
اور مجھ سمیت میرے ان تمام دوستوں میں سے کسی کو بھی
میلاد شریف کے جائز ہونے کے بارے میں اب کسی قسم کا شک
و شبہ باقی نہیں۔
باقی دوست: جی ہاں بالکل، یہی بات ہے۔
جاوید: اگر آپ محسوس نہ فرمائیں تو چند مذید سوالات کے
جوابات بھی عنایت فرما دیجئے، یہ ایسے سوالات ہیں کہ
جو میلاد پاک کو جائز ماننے کے بعد بھی ذہن میں پیدا
ہوتے ہیں۔
احمد رضا: ہاں ہاں
ضرور پوچھئے، اگر مجھے معلوم ہوا تو انشاءاللہ عزوجل
ان کے جوابات بھی ضرور عرض کرنے کی سعادت حاصل کروں
گا۔
جاوید: بہت بہت شکریہ، اگلا سوال یہ ہے،
سوال: اس پر کیا دلیل ہے کہ میلاد رسول صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم پر خوشیاں منانا، اللہ تعالٰی اور اس
کے نبیء کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی رضا و
خوشنودی کا سبب ہے ؟
احمدرضا:
موقع میلادالنبی صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر اللہ تعالٰی کی خوشی کا
اندازہ اس عبارت سے لگائیے کہ جسے شیخ عبدالحق
محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے “ماثبت من السنۃ“
میں نقل فرمایا ہے، تحریر فرماتے ہیں، “ابو
لہب نے اپنی لونڈی ثوبیہ کو اس صلے میں آزاد کر دیا
تھا کہ اس نے (یعنی ثوبیہ) نے اسے سرور عالم صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کی خبر دی تھی تو
ابولہب کے مرنے کے بعد کسی نے اسے خواب میں دیکھا،
پوچھا کہ “کہو کیا حال ہے ؟“ بولا “آگ میں ہوں البتہ
اتنا کرم ہے کہ ہر پیر کی رات مجھ پر تخفیف کر دی جاتی
ہے اور اشارے سے بتایا کہ “اپنی دو انگلیوں سے پانی
چوس لیتا ہوں“ اور یہ عنایت مجھ پر اس وجہ سے ہے کہ
مجھے ثوبیہ نے بھتیجے (یعنی نبیء اکرم صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم) کی پیدائش کی خبر دی تھی تو اس بشارت
کی خوشی میں، میں نے اسے دو انگلیوں کے اشارے سے آزاد
کر دیا تھا اور پھر اس نے اسے دودھ پلایا تھا۔“
(خواب والا واقعہ بخاری شریف میں بھی موجود ہے۔)
(عبدالحق دہلوی رحمۃ اللہ
تعالٰی علیہ مذید تحریر فرماتے ہیں کہ) اس پر علامہ
جزری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ
جب ابولہب جیسے کافر کا یہ
حال ہے کہ اس کو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
کی پیدائش کی رات خوش ہونے پر دوزخ میں بھی بدلہ دیا
جا رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کی امت میں سے ان لوگوں کے حال کا کیا پوچھنا جو
آپ کی پیدائش کے بیان سے خوش ہوتے ہیں اور جس قدر بھی
طاقت ہوتی ہے ان کی محبت میں خرچ کرتے ہیں، مجھے اپنی
اپنی عمر کی قسم! کہ ان کی جزاء خدائے کریم کی طرف سے
یہی ہو گی کہ ان کو اپنے فضل عمیم (یعنی فضل کامل) سے
جنات نعیم (آرام و نعت کے باغات یعنی جنت) میں داخل
فرمائے گا۔“
اور مدنی مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی
خوشنودی و مسرت کیلئے یہ روایت سنئے کہ
جسے علامہ شاہ محمد
مظہراللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے “تصرفات محمدیہ
(صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)“ میں نقل فرمایا ہے
کہ آپ لکھتے ہیں “علامہ
زرقانی نے بحوالہ تنویر، حضرت ابن عباس رضی اللہ
تعالٰی عنہ سے نقل کیا ہے کہ وہ (یعنی ابن عباس رضی
اللہ تعالٰی عنہ) اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال اور
چند افراد قوم کو جمع کرکے ان کے سامنے ولادت کے
واقعات و حالات بیان فرما رہے تھے اور حمدالٰہی عزوجل
اور درود و سلام میں مصروف تھے کہ اچانک سرور دو جہاں،
شفیع مجرماں صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم تشریف لے
آئے اور آپ کا یہ حال ملاحظہ فرما کر نہایت خوش ہوئے
اور فرمایا “حلت لکم شفاعتی“ تمھارے لئے میری شفاعت
حلال ہو گئی (یعنی لازم ہو گئی)“
(مظہراللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اس کے بعد
فرماتے ہیں) سبحان اللہ عزوجل!
وہ لوگ کیسے خوش قسمت ہیں
جو رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے ذکر
کی مجالس منعقد کرکے اپنی بخشش کا سامان کرتے ہیں۔“
اور “انفاس العارفین“
میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
تحریر فرماتے ہیں کہ “ان
کے والد حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رحمۃ اللہ تعالٰی
علیہ بیان فرمایا کرتے تھے کہ میں ہر سال بارھویں شریف
کے میلاد شریف میں طعام اور شیرنی تقسیم کرتا تھا، مگر
ایک سال کچھ تنگ دستی ہو گئی تو میں نے بھنے ہوئے چنوں
پر ہی فاتحہ دے کر میلاد شریف میں تقسیم کر دئیے میں
نے خواب میں رحمت کونین صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کی زیارت کی، دیکھا کہ وہی چنے سرکار دو عالم صلی
اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھے ہوئے ہیں
اور آپ خوش ہو رہے ہیں۔“
اور پیارے اسلامی بھائیو! اگر
عقلی طور پر بھی
دیکھا جائے تو با آسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ فعل،
اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کو خوش کرنے والا ہے، وہ اس طرح کہ بارھویں شریف
کو سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے نسبت ہے
اور ہمارا اس پر خوب خوشیاں منانا اس بات کی علامت
ہےکہ
ہمیں اپنے آقا صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے عالم میں رونق افروز ہونے سے
خوشی و مسرت حاصل ہوئی ہے اور یہ فطری تقاضا ہے کہ جس
چیز کو ہم سے نسبت ہو اس پر کسی کا خوشی کا اظہار کرنا
ہمیں خوش کر دیتا ہے بس اسی طرح مدنی آقا صلی اللہ
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم سے نسبت رکھنے والی بارھویں
شریف پر خوشی منانا آپ کو خوش کر دیتا ہے اور چونکہ
ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اپنے رب
عزوجل کے حبیب ہیں اور اللہ تعالٰی کی خوشی اپنے حبیب
کی خوشی میں پوشیدہ ہےچنانچہ جب حبیب باری تعالٰی خوش
ہو گئے تو باری تعالٰی بھی ضرور ضرور خوش ہو گا۔
جاوید: بالکل درست، اب ایک اور سوال۔
سوال: ان اعمال پر سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم
کو خوش ہونا تو اس صورت میں ممکن ہے کہ جب آپ کو ان
تمام کاموں کی خبر ہو، تو اس پر کیا دلیل ہے کہ آپ
ہمارے تمام افعال و اعمال پر واقف ہیں ؟
احمدرضا :
!یقیناً ہمارے پیارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم بخوبی جانتے ہیں کہ آپ کا کون امتی، کس طرح خوشی
کا اظہار کر رہا ہے۔
اس پر دلیل وہ حدیث پاک ہے
جسے اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالٰی عنہ نے “احکام شریعت“
میں نقل فرمایا ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ تعالٰی
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ہر پیر اور جمعرات
کو اللہ تعالٰی کے حضور اعمال پیش ہوتے ہیں اور
انبیاءکرام علیھم الصلوٰۃ والسلام اور ماں باپ کے
سامنے ہر جمعے کو، وہ نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں اور ان
کے چہروں کی صفائی اور تابش بڑھ جاتی ہے تو اللہ عزوجل
سے ڈرو اور اپنے مردوں کو اپنے گناہوں سے رنج نہ
پہنچاؤ۔ (ارواہ الامام الحکیم عن والد
عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ)
بلکہ اچھی طرح یاد رکھئے
کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا
اعمال امت پر واقف ہونا، فقط اعمال ناموں کے خدمت اقدس
میں پیش کئے جانے پر موقوف نہیں، بلکہ اللہ تعالٰی کی
عطا اور اس کے فضل و کرم سے آپ بذات خود براہ راست
اپنی پوری امت کے اعمال کا مشاہدہ فرمانے پر قادر ہیں،
کائنات کی کوئی بھی شے آپ پر مخفی نہیں۔
جاوید:
بعد وفات آپ ہمیں کس طرح دیکھ سکتے ہیں ؟
احمدرضا: شاید آپ کو یاد نہیں رہا، ابھی کچھ دیر پہلے
میں نے ایک حدیث پاک بیان کی تھی کہ
“انبیاء علیھم السلام اپنی
قبور میں زندہ ہیں “ (ابن ماجہ)
جاوید:
اچھا اس پر کیا دلیل ہے کہ آپ اتنے طویل فاصلے سے ہمیں
دیکھ سکتے ہیں ؟
احمدرضا: اس پر بےشمار دلیلیں موجود ہیں۔ تنگیء وقت کی
بناء پر دو دلیلیں
پیش کرتا ہوں۔
(1) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے
روایت ہے فرماتے ہیں۔
“رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں
سورج گرہن ہوا تو آپ نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، پھر
فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا۔ لوگوں نے عرض کی
“یارسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم)! ہم نے
(حالت نماز میں) دیکھا کہ آپ نے اپنی اس جگہ میں کچھ
لیا (یعنی دوران نماز ہاتھ آسمان کی طرف بڑھا کر کسی
چیز کو پکڑنے کا ارادہ فرمایا) پھر دیکھا کہ آپ پیچھے
ہٹے (یعنی ان دونوں افعال کی کیا وجہ تھی ؟) (رحمت
عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیتے
ہوئے ارشاد) فرمایا “میں نے “جنت“ ملاحظہ کی تو اس سے
ایک خوشہ لینا چاہا، اگر لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک
کھاتے رہتے (کیونکہ جنت کی نعمتوں میں فنا نہیں ہے)
اور میں نے آگ (یعنی دوزخ) دیکھی تو آج کی طرح گھبراہٹ
والا منظر کبھی نہ دیکھا، میں نے اس میں عورتوں کی
تعداد زیادہ دیکھی۔“ (مسلم شریف)
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ایک طویل حدیث پاک ہے لیکن میں
نے ضرورتاً کچھ مختصر کرکے بیان کی ہے
اگر آپ غور فرمائیں تو اس
سے معلوم ہوا کہ ہمارے آقا صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ
وسلم کو بینائی میں بےحد وسعت عطا کی گئی ہے چنانچہ
چاہیں تو ساتوں آسمانوں کے اوپر اور کروڑوں میل دور
واقع جنت کو دنیا میں کھڑے کھڑے نہ صرف ملاحظہ فرما
لیں بلکہ ایسے قادر و مختار ہیں کہ اگر چاہیں تو ہاتھ
بڑھا کر اس کی نعمتیں بھی حاصل کر سکتے ہیں اور جب یہ
دونوں چیزیں آپ کے لئے صحیح حدیث سے ثابت ہیں تو پھر
یہ اعتقاد رکھنا کہ آپ ہمیں مدینہ منورہ سے دیکھ سکتے
ہیں۔ اور اللہ تعالٰی کی عطا کردہ نعمتوں کو اپنے
غلاموں کو تقسیم فرما سکتے ہیں بالکل حق و درست ہے۔
(2) آپ نے ولادت شریف کے واقعات میں سنا کہ بوقت
ولادت ایسا نور نکلا کہ جس
کی برکت سے بی بی آمنہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے ہزاروں
میل دور شام کے محلات کو اپ |