Last updated on Tuesday, November 27, 2012

  Tuesday, October 22, 2019, 2:03:52 PM
 
    Updated News (Tuesday, November 27, 2012)      Six (6) Audio Naat Albums of Mohammad Owais Raza Qadri, Imran Sheikh Attari & Mohammad Anis Saba has been added in the Audio Naat Section.    Twelve Audio Speeches has been added by Hazrat Allama Syed Muzaffar Hussain Shah in the Audio Speeches Section.    Ten Audio Speeches has been added by Hazrat Allama Mohammad Ilyas Attar Qadri in the Audio Speeches Section.    Ten Audio Speeches has been added by Hazrat Allama Mohammad Imran Attari in the Audio Speeches Section.    Five (5) Urdu Books has been added in the Urdu Books Section.  1. Hairat Angez Haadisa, 2.Halaat-e-Zindagi Hazrat Abdul Rahman Choharvi., 3.Hazrat Saad Bin Abi Waqaas, 4.Qasam Kay Baaray Mein Madani Phool, 5.Zakat Kon Ley Sakta Hai.
 
Currently Active Users: 8135
NooreMadinah Network: A home for Quran & Sunnah, Islamic Beliefs, Media, Books, Literature, Gallery and everything you need to know about Islam.
Quote

The month of Ramadan, the month of blessings has come to you wherein Allah turns towards you and sends down to you this special Mercy, forgives your faults, accepts prayers, appreciates your competition for the greatest good and boasts to the Angels about you. So show to Allah your righteousness; for verily, the most pitiable and unfortunate one is he who is deprived of Allah's Mercy in this month. (Tabraani).

Search Site

 
Search In
 
 

Search Hadith

 
Select Hadith Book
Enter Hadith Text

 
Urdu Font Problem
Click here

More Links

 
 اسلامی عقائد
حدیث شریف
اسلامی شخصیات
عبادات
Urdu Section Main
 

Explore Site

 
Home

Al-Quran

Media Library
Islamic TV Programes
Urdu Unicode Books/Articles
English Articles

English Books

Urdu Books
Sisters Corner
Kids Corner
Services
Islamic Gallery
Forum
Contact Us
 

Top 5 Sites

 
Raza E Mustafa
Noor-e-Nabi
FaizaneMadinah
Faizan-e-Attar
Idara Tahqeeqat-e-Imam Ahmad Raza
View All Links
Submit Your Site
 

Requirements

 
Internet Explorer 5.0 or Later
Netscape
Real One Player
Adobe Acrobat Reader
 
Sign Guestbook
View Guestbook
 

امام احمد رضا کا اسلوبِ تحقیق

از: علامہ مولانا مفتی ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 
امام احمد رضا کی کوئی بھی تصنیف سر سری قسم کی نہیں ہے، ان کے قلم میں بحر اوقیانوس جیسی گہرائی موجود ہے۔ اسلوب تحقیق بہت بلند ہے، انہوں نے سلف محققین کے وضع کردہ اصولوں کو برتا ہے، اپنی تحقیق پیش کرتے وقت ان اصولوں پر بحث کی ہے۔ انہوں نے اصول تحقیق کو نہ صرف یہ کہ پیش نظر رکھا ہے، بلکہ اس کا زکو آگے بڑھایا اور مزید اصول و قواعد و ضع بھی کئے ہیں۔ تصدیق کے لئے تفصیل آگے آتی ہے۔ محققین سلف کے اصول تحقیق پر جو انہوں نے بحث کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے۔

صحت نسخ :

  1. کوئی کتاب یا رسالہ کسی بزرگ کے نام سے منسوب ہونا ، اس سے ثبوت قطعی کو مستلزم نہیں، بہت سے رسالے خصوصاً اکابر چشت کے نام منسوب ہیں، جس کا اصلاً ثبوت نہیں۔ [١]
  2. کسی کتاب کا ثابت ہونا، اس کے ہر فقرے کا ثابت ہونا نہیں، بہت اکابر کی کتابوں میں الحاقات ہیں، جن کا مفصل بیان ” الیواقیت و الجواہر” امام عارف باللہ عبد الوہاب شعرانی رضی اللہ عنہ میں ہے۔ [٢]

اتصال سند :

  1. علماء کے نزدیک ادنیٰ ثبوت یہ تھا کہ نا قل کے لئے مصنف تک سند مسلسل متصل بذریعہ ثقات ہو۔ [٣]
  2. اگر ایک اصل تحقیقی معتمد سے اس نے مقابلہ کیا ہے۔ تو یہ بھی کافی ہے۔ یعنی اصول معتمدہ متعددہ سے مقابلہ زیادت احتیاط ہے۔ یہ اتصال سند اصل وہ شی ہے، جس پر اعتماد کرکے مصنف کی طرف نسبت جائز ہو سکے۔ [٤]

تواتر :

  1. کتاب کا چھپ جانا ،اسے متواتر نہیں کر دیتا ، کہ چھاپہ کی اصل وہ نسخہ ہے، جو کسی الماری میں ملا، اس سے نقل کرکے کاپی ہوئی۔ [٥]
  2. متعدد بلکہ کثیر وافر قلمی نسخ کا موجود ہونا بھی ثبوت قطعی کو بس نہیں، جب تک ثابت نہ ہو کہ یہ سب نسخ جدا جدا اصل مصنف سے نقل کئے گئے، یا ان نسخوں سے جو اصل سے نقل ہوئے، ورنہ ممکن کہ بعض نسخ محرفہ ان کی اصل ہوں، ان میں الحاق ہو اور یہ ان سے نقل در نقل ہو کر کثیر ہو گئے۔ [٦]

تد اول :

  1. متاخرین نے کتاب کا علماء میں ایسا مشہور و متد اول ہونا، جس سے اطمینان ہے کہ اس میں تغیر و تحریف نہ ہوئی، اسے بھی مثل اتصال سند جانا” [٧]
  2. تد اول کا یہ معنیٰ کہ کتاب جب سے اب تک علماء کے درس و دریس یا نقل و تمسک یا ان کے مطمحِ نظر رہی ہو، جس سے روشن ہو کہ اس کے مقامات و مقالات علماء کے زیر نظر آچکے اور وہ بحالت موجودہ اسے مصنف کا کلام مانا کئے۔ ” [٨]
  3. زبان علماء میں صرف و جود کتاب کافی نہیں، کہ وجود و تداول میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ [٩]

احتیاط نقل و استدلال:

  1. علماء نے فرمایا: جو عبارت کسی تصنیف کے نسخ میں ملے، اگر صحت نسخہ پر اعتماد ہے، یوں کہ اس نسخہ کو خود مصنف یا اور ثقہ نے خاص اصل مصنف سے مقابلہ کیا ہے، یونہی اس ناقل تک، جب تو یہ کہنا جائز ہے کہ مصنف نے فلاں کتاب میں یہ لکھا، ورنہ نہیں۔ [١٠]
  2. اس نسخہ صحیحہ معتمدہ سے جس کا مقابلہ اصل نسخہئ مصنف یا اور ثقہ سے کیا، و سائط زیادہ ہوں، تو سب کا اسی طرح کے معتمدات ہونا معلوم ہو، تو یہ بھی ایک طریقہئ روایات ہے اور ایسے نسخہ کی عبارت کومصنف کا قول بتانا جائز۔ [١١]

یہ چند اصول تحقیق ہیں، جن کا لحاظ نہ کیا جائے، تو کوئی بھی تحقیق جسد بے روح قرار پائے، اور اس سے جو غلط نتائج بر آمد ہوںگے، وہ زمانوں گمراہ کن ہوںگے ۔ امام احمد رضا اس امر میں حد درجہ محتاط و متدین تھے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو:

تحقیق میں صحت نسخہ اور صحت متن کو اساسی حیثیت حاصل ہے۔ ”فتاویٰ تا تار خانیہ” کی ایک عبارت میں انہیں شبہ ہوا، عبارت یہ ہے: ومعہ من الماء قدر مایتو ضؤ بہ فانہ تییم ولا یتو ضؤ بہ فانہ تییموالا یتو ضؤ بہ لانہ لما مر [١٢]

ان کے پاس کتاب مذکور کے چار نسخ تھے، ان سب میں عبارت یوں تھی۔ و معہ من الماء قدر ما یتو ضؤ بہ لانہ یتوضؤکما مر، ان کا التباس یہ تھا کہ یہاں الفاظ حکم ” فانہ متمیم ولا یتوضؤ بہ” ساقط ہیں، جو چاروں نسخوں میں طباعت کی غلطی ہے۔ اب انہیں قلمی نسخوں کی تلاش ہوئی ۔ اگرچہ عبارت کو اپنے فہم و وجدان سے صحیح سمجھ لیا تھا۔ چنانچہ ایک خط میںلکھتے ہیں:

 ”فتاویٰ امام قاضی خان فصل ما یجوز بہ التیمم، اس مسئلہ میں جب ہتمم للنھر و صلی ثم احدث ( ای قولہ) معہ ماء یکفی للا غتسال نتیمم، جتنے نسخ مطبوعہ ہیں۔ سب میں عبارت ناقص ومختل ہے، مصر، کلکتہ، لکھنؤ تینوں کے چھاپے کے علاوہ ا گر وہاں کوئی قلمی نسخہ یا اور کسی مطبع کا ہو۔ اس سے پوری عبارت نقل کر کے بھیجئے۔” [١٣] (مکتوب بنام مولانا سید محمد ظفرالدین رضوی عظیم آبادی۔ محررہ ٢٢/ رجب ١٣٣٤ھ)

چنانچہ ملک العلماء مولیٰنا سید محمد ظفر الدین رضوی نے خد ابخش لائبریری پٹنہ سے دو دو قلمی نسخوں سے زیر بحث مسئلہ کی پوری عبارت نقل کرکے بھیجی، اس سے پہلے انہوں نے لکھنؤ سے بھی ایک خطی نسخہ منگوایا، ان تینوں نسخوں میں عبارت و الفاظ ویسے ہی ہیں، جیساکہ انہوں نے اپنے فہم سے سمجھا تھا۔ دیکھیں ، وہ لکھتے ہیں:

 ”فقیر کے پاس ” خانیہ” کے چار نسخے ہیں، ایک مطبع السلام کامطبوعہ ١٢٧٢ھ یہ، اس کے جلد اول نہیں، دوسرا مطبوعہ کلکتہ ١٨٣٥ء جسے اسی (٨٠)برس ہوئے، تیسرا مطبوعہ مصر ١٣١٠ھ کہ ”ہاش ہندیہ” پر ہے، چوتھا مطبع مصطفائی ١٣١٠ھ، جس کے ہامش پر سراجیہ ہے، عجب کہ ان سب میں ” و معہ ماء قدر ما یتضؤ بہ” کے بعد الفاظ حکم ساقط ہیں۔ اس کے بعد ”لانہ لمامر” تعلیل ہے، عجب نہیں کہ مصری و مصطفائی دونوں نسخے اس نسخہ کلکتہ سے نقل ہوئے ہوں، جس میں عبارت چھوٹ گئی۔ اگرچہ خود فحوائے عبارت نیز مشاہدہ امام احمد کتاب اصل سے کہ بعونہ تعالیٰ افادات میں آتا ہے۔ الفاظ ساقطہ ظاہر تھے کہ ” فانہ تیمم ولا یتوضؤ بہ” ہوں گے۔ کاتب کی نظر ایک ” لایتوضؤ بہ” سے دوسرے کی طرف منتقل ہو گئی،بحمدہ تعالیٰ نسخہ قدیمہ سے اس کی تصدیق ہو گئی۔ چند سال ہوئے۔ فقیر کے پاس ایک پرانا قلمی نسخہ لکھنؤ سے آیا تھا۔ اس میں بعینہ عبارت یونہی تھی، جس طرح فقیر نے خیال کی ” ومعہ من الماء قدر مایتوضؤ بہ فانہ یتمیم ولا یتوضوبہ لانہ لما مر ” الخ۔

اس کے بعد ولد عزیز ذو العلم و التمیز فاضل بہار مولوی محمد ظفر الدین و فقہ اللہ تعالیٰ لحمایۃ الدین ونکا یۃ المفسدین و جعلہ، کا سمہ ظفر الدین اپنے زمانہ مدرسی مدرسہ شمس الہدیٰ بانکی پور میں عظیم آباد کے مشہور کتب خانہ خدا بخش خان سے ایک بہت قدیم قلمی نسخہمکتوبہ ٩٠٠ھ سے کہ جسے لکھے ہوئے ٤٣٥ برس ہوئے، یہ مسئلہ نقل کرکے بھیجا۔ اس میں بھی یہی صحیح عبارت ہے۔ ” و مہ ماء قدر مایتوضؤ بہ انہ یتیمم ولا یتوضؤبہ لانہ لما مرالخ”

دوسری نقل کاایک نسخہ مکتوبہ ٩٢٧ھ سے بھیجا، جسے ٤٠٨ برس ہوئے۔ اس میں یوں ہے : ”و معہ ماء قدر ما قدر ما یتوضؤبہ فانہ متیمم لانہ لما مرا لخ” اس کا بھی حاصل وہی ہے ۔ کمالا یخفی” [١٤]

اس ایک مثال سے اس امر کا اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ان کا اسلوب تحقیق کتنا بلند تھا۔ انہوں نے کوئی بات بے تحقیق، بلا ثبوت لکھی نہ کہی۔ جو کچھ کہا، جو کچھ لکھا، دلیل سے کہا، تحقیق سے لکھا، کہ کسی کو لب کشائی کی گنجائش نہ رہی، غالباً اس وجہ سے شیخ محمد مختار بن عطار دالجاوی مسجد حرام ، مکہ معظمہ نے انہیں ”خاتم المحققین” اور” سلطان العلماء المحققین” کے لقب سے یاد کیا۔ [۱۵]

بحر العلوم مولیٰنا عبد العلیٰ فرنگی محلی (پ١١٤٤ھ/ م ١٢٣٥ھ) کی شرح فقہ اکبر چھپی اور ان کی نگاہ سے گذری ، تو پہلے ہی دن پہلی ہی نظر میں ایک عبارت کے اندر معلوم ہواکہ کچھ چھوٹ گیا ہے، لہٰذا صفحہ و سطر کی قید سے حضرت مولیٰنا عبد الباری فرنگی محل کو خط لکھا کہ: ”ایک حاجت ضروری گذارش ،شرح فقہ اکبر حضرت مولیٰنا بحر العلوم قدس سرہ میرے پاس آگئی، آج اسے دیکھا، ص ٤٠ پر سطر ١٩ سے ثلث سطر ٢١ تک ” وسیر اہل سماء افضل ازاہل سمائ” سے ” نعوذ باللہ منہا” تک عبارت میں بظاہر سقط معلوم ہوتاہے۔ امید کہ صحیح نسخہئ قلمیہ سے اور اگر خاص دستخطی حضرت شارح قدس سرہ ہو، تو از ہمہ اولیٰ ، یہ عبارت صحیح تحریر فرما بھیجیں، باعث ممنونی ہوگا، و التسلیم ” [١٦]

حضرت مولانا عبد الباری نے ٢٨/ شوال کو جواب لکھا کہ :

”میں سندھ کے لئے پا بہ رکاب ہوں، اس لئے جناب والا کے ارشاد کی شرح فقہ اکبر کے بارے تعمیل نہ ہو سکی، زیادہ آداب” [١٧] (مکتوب امام احمد رضا بنام مولانا عبدالباری فرنگی محلی محررہ ٢٨/شوال ٣٩ھ)

حضرت مولیٰنا موصوف سندھ سے واپس تشریف لائے، تو امام احمد رضا نے اس کی یاد دہانی کرائی اوراصلاح و نظر ثانی کی تمنا کا اظہار کیا، الفاظ یہ ہیں:

”اب تو آپ تشریف لے آئے۔ عبارت شرح فقہ اکبر اصل نسخہ سے مطابق فرما کر اب عنایت ہو، نیز ص ٤٨ سطر اول میں ہے ”اجماع خلاف حضرت امیرا لمؤ منین قطعی و اجماع خلاف ظنی” یہاں بھی کچھ الفاظ رہ گئے ہیں، اس کی بھی تکمیل عنایت ہو۔ حیف! کہ ایسی کتاب اور اتنی غلط چھپے؟ جا بجا مطلب خبط ہو گئے، جا بجا شود کا نشود، اور نشود کا شود ہے۔ اس کو تصحیح کامل کے ساتھ چھپوانا اعظم حسنات سے ہے۔ یہ آپ کے ہاتھ میں ہے، یا اصل نسخہ عاریۃ مجھے عنایت ہو، تو میں باذنہ تعالیٰ اس خدمت کا شرف لوں، والتسلیم’ [١٨] (مکتوب امام احمد رضابنام مولیٰنا عبد الباری، محررہ ١٠ ذیقعدہ ١٣٣٩ھ)

یہ ہے ان کا معیار مطالعہ اور نگاہ تحقیق، جو انہیں قلمی نسخوں کی تلاش پر مجبور کر دیتی ہے، جب تک وہ خود مطمئن نہیں ہو جاتے، استدلال و استناد سے اجتناب کرتے ہیں۔ اس سے ان کے نقل و استناد میں احتیاط و دیانت کا پتہ چلتا ہے۔

ذہانت ، زود نویسی اور کثرت حوالہ جات:

امام احمد رضا کی سیرت، سوانح، علوم، تصانیف اور خدمات پر جو کتب و مقالات لکھے گئے ہیں، ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد بھی ایک ہزار سے زیادہ تک پہنچ چکی ہے، ان کتب و مقالات کے صفحوں پر بالعموم یہ تذکرہ ملتا ہے کہ وہ بڑے ذہین اور نہایت فطین تھے، طبیعت غضب کی اخّاذ تھی، دماغ بلا کا جوال اور قلم ایسا سیال تھا، جیسے پہاڑ کی چوٹی سے پانی کا بہتا ہوا دھارا، ذہانت اور قوت یاد داشت کا مظاہرہ ان کے بچپن سے ہی ہونے لگا تھا، ان کے استاذ انہیں ابتدائی کتب پڑھاتے تو ایک دو مرتبہ دیکھ کر کتاب بند کردیتے، اور جب سنانے لگتے، تو حرف بہ حرف اور لفظ بہ لفظ فر فر سناتے، یہ کیفیت دیکھ کر متعجب ہو کر استاذ نے پوچھا، احمد میاں! یہ تو کہو ، تم آدمی ہو، یاجن، کہ مجھے پڑھاتے دیر لگتی ہے، مگر تمہیں یاد کرتے دیر نہیں لگتی۔ [١٩]

ان کی سیرت و ذہانت کا یہ واقعہ بھی باوثوق ذرائع سے نہایت مشہور ہے کہ انہوں نے صرف ایک ماہ کی چھوٹی سی مدت میں قرآن کریم نہ صرف حفظ کر لیا ،بلکہ محراب میں کھڑے ہو کر تراویح بھی سنا دی [٢٠]

ایک دفعہ وہ مشہور استاذ حدیث مولیٰنا وصی احمد محدث سورتی سے ملنے پیلی بھیت گئے، تو کم و بیش چوبیس گھنٹے میں ” عقود الہ ریہ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیہ” کی دو جلدیں مطالعہ کر کے واپس کرنے لگے، تو محدث موصوف نے کہا” ملاحظہ فرما لیں، تو بھیج دیں”انہوں نے جواب دیا:اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دو تین مہینے تک تو جہاں کی عبارت کی ضرورت ہوگی، فتویٰ میں لکھ دوںگا، اور مفہوم تو عمر بھر کے لئے محفوظ ہو گیا۔ [٢١]

 اس کی تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے کہ علامہ عبد الحئی لکھنوی نے نوٹ کہ اس زمانہ میں نو ایجاد تھا، کے بارے میں عدم جواز کا فتویٰ دیا تھا، جبکہ آپ کا موقف جواز کا تھا، ” کفل الفقیہ الفاہم فی احکام القرطاس والدراہم” آپ نے مکہ مکرمہ میںلکھی، اس میں گیارہویں سوال کے جواب میں آپ نے ان کا رد پندرہ وجوہ سے کیا [٢٢]،

 اور یہ محض قوت حافظہ کا کرشمہ تھا، ورنہ وہاں ان کا فتویٰ آپ کے پیش نظر نہ تھا، خود آپ لکھتے ہیں: ان کا فتویٰ اگرچہ وہاں موجود نہ تھا، مگر اس کا مضمون ذہن میں تھا ، بفضلہ تعالیٰ گیارہویں مسئلہ میں اس کا وافی و شافی رد گذرا ، کہ مصنف کو کافی اور اوہام کا نافی ہے، و للہ الحمد،[٢٣]

جب آپ وطن لوٹے تو فتویٰ کی طرف مراجعت ہوئی، اور بیس وجوہ سے ان کی تنقید فرمائی۔ [٢٤]

 ایک دفعہ انہیں مرض اسہال نے آلیا، تو ڈاکٹروں نے لکھنے پڑھنے سے مطلقاً منع کر دیا۔ مگر ان کے دل میں فرض منصبی، اس کے تقاضے اور خدمت خلق کا جذبہ سرد نہ پڑا۔ اور وہ اپنے یہاں موجود مفتیوں اور حاضر باشوں کو آئے ہوئے سوالات و مکتوبات کے جوابات حسب معمول لکھواتے رہے، اور پھر” مجھ سے فرماتے ، الماری سے فلاں جلد نکالو، اکثر کتابیں مصری ٹائپ ( جوباریک ہوتے ہیں) کی کئی کئی جلدوں میں ہوا کرتی تھیں۔مجھ سے فرماتے، اتنے صفحے لوٹ لو، اور فلاں صفحے اتنی سطروں کے بعد یہ مضمون شروع ہو اہے۔ اسے نقل کر دو، میں وہ فقرہ دیکھ کر پورا مضمون لکھتا، او ر سخت متحیر ہوتا کہ وہ کون سا وقت ملا تھا کہ جس میں صفحہ اور سطر گن کر رکھے گئے تھے، .غرضیکہ ان کا حافظہ اور دماغی باتیں ہم لوگوں کی سمجھ سے باہر تھیں۔ ” [٢٥]

آفریں ہے اس ذکائر و فہم پر

 

 ان کی سیرت و شخصیت کے اوراق اس قسم کے محیر العقول واقعات سے بھرے بھرے دکھائی پڑتے ہیں۔یہاں سب یا اکثر کا نقل و اعاد ہ بھی طول مضمون کا باعث ہے۔ جنہیں اشتیاق ہو، اصل کتب کی طرف رجوع کریں، اب آخر میں ا ن کا ایک اور رخ ملاحظہ کریں، وہ خطاط و خوش خط بھی تھے، خط نسخ، خط نستعلیق اور خط شکستہ سے ان کی انگلیاں اس قدرما نوس تھیں۔ قلم کو حرکت ہوتی اور تراشے ہوئے الفاظ نگینوں کی طرح سج سنور کر نکلتے اور سینہئ قرطاس پر خود بخود جڑتے چلے جاتے۔ علماء کی صف نعال میں بیٹھنے کا آرزو مند غلام جابر شمس مصباحی کے پاس پچاسوںتصانیف و مکتوبات و نوادرات ہیں۔ بعض عکس نوادرات میں شامل کئے جاتے ہیں۔ دیکھ کر وہاں کہنا پڑے گا کہ میری باتوں میںمبالغہ ہر گز نہیں ہے، ان کے اولین سیرت نگار لکھتے ہیں:

”یہ فضل و کمال اعلیٰ حضرت کی خصوصیات سے تھا، کہ جس درجہ فضل و علم میں کمال تھا، اسی درجہ نسخ، نستعلیق، شکستہ خط بھی نہایت عمدہ تھے، اور حد درجہ گھٹاہوا تحریر فرماتے تھے۔”[٢٦]

مطبع اہل سنت و جماعت بریلی کی مطبوعات و نشریات جنہوں نے دیکھی ہیں، انہیں یہ اندازہ ضرور ہوگا کہ بہت سے رسائل و کتب کا تب سے کتابت کرائے بغیر صرف ان کی خوش خطی و خوش رقمی کی بنیاد پر چھاپ دیئے گئے تھے، اتنے وہ زریں رقم اور خوش نوشت تھے، ان کے لکھنے کی جو رفتار تھی، وہ انتہائی تیز تھی، زود نویس تھے وہ، ان کی زود نویسی اورسرعت نگارش دیکھ کرہندوستان کے علماء حیران و ششدر رہ جاتے ا ور مشائخ حجاز اقدس کی با برکت زبانوں پر آفریں کی صدائیں بلند ہونے لگتیں۔ سرعت تحریر کے متعلق حیات اعلیٰ حضرت کے مصنف لکھتے ہیں: ”وہ بہت زود نویس تھے، چار آدمی نقل کرنے بیٹھ جاتے اور حضرت ایک ایک ورق تصنیف کرکے انہیں نقل کرنے کو عنایت فرماتے ، یہ چاروں نقل نہ کرپا تے کہ پانچواں ورق تیار ہو جاتا” [٢٧]

یہ تھی مختصر سی گفتگو ان کی قوت یاد داشت کی اور سرعت تحریر کی۔ ان کی نگارشات و کاو شات کی ایک نمایاں خصوصیت حوالوں کی کثرت بھی ہے، اور ہر وہ فن جس میں وہ لکھ رہے ہوتے ہیں کے متون و شروح و حواشی سے اپنے مدعا و موقف پر دلائل کا پہاڑ کھڑا کر دیتے ہیں۔ کیا وہ صرف نقل اقوال کرتے چلے جاتے ہیں، نہیں، بلکہ ان میںتوفیق و تطبیق بھی دیتے ہیں اگر وہ متعارض ہیں اور اگر کہیں شرعی یافنی جھول ہے، تو وہاں وہ یوں تشریح و تنقیح کرتے ہیں کہ علم و فن کی روح جھوم جھوم اٹھتی ہے ۔بسا اوقات ان کے قلم سے کچھ ایسے اصول و قواعد نکل آتے ہیں، کہ وہ ان میں موجد یا کم از کم انفرادی شان لئے نظر آتے ہیں۔ غرض مجتہدانہ و موجدانہ قوت و بصیرت اور شہ زور قسم کی دلیل وحجت سے قاری وسامع کو مطمئن کر دیتے ہیں۔ پر وفیسر محمد مسعود احمد کہتے ہیں:

”وہ اپنے علمی مقالات و رسائل اور کتب کو عقلی اور نقلی دلائل و شواہد سے ایسا مزین کرتے ہیں کہ قاری مطمئن ہو جاتا ہے اور تشنگی محسوس نہیں ہوتی۔ ان کا ایک رسالہ ” شرح المطالب فی بحث ابی طالب” ١٣١٦ھ/ ١٨٩٩ء ٥٧/ صفحات پرمشتمل ہے، مگر اس میں ایک سو تیس کتابوں کے حوالے موجود ہیں۔ ان کی علمی تحقیقات کی یہی شان ہے۔ ان کی قوت حافظہ بہت تیز تھی، ان کا قلم بھی سیل رواں کی طرح چلتا تھا۔” [٢٨] کچھوچھہ مقدسہ کے صو فی صافی ، صحافی عالم و بزرگ سید محمد جیلانی اشرف علیہ الرحمۃ اپنے فکر انگیز اداریہ میں تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”امام احمد رضا نے تقریباً ٦٥/ علوم و فنون پر ایک ہزار کتب و رسائل تصنیف فرمائیں۔ عشق و ایمان سے بھر پور ترجمہ قرآن دیا۔ بارہ ہزار صفحات پر مشتمل فقہی مسائل کا خزانہ” فتاویٰ رضویہ” کی شکل میں عطا کیا۔ اگر ہم ان کی علمی و تحقیقی خدمات کو ان کی٥ ٦/ سالہ زندگی کے حساب سے جوڑ یں تو ہر ٥ گھنٹے میں امام احمد رضا ہمیں ایک کتاب دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایک متحرک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا جو کام تھا، امام احمد رضا نے تن تنہا انجام دیکر اپنی جامع وہمہ صفت شخصیت کے زندہ نقوش چھوڑے۔” [٢٩]

اور پھر حیران کن بات یہ ہے کہ سفر ہو یا حضر، تنہائی ہو یا مجمع عام، صحت ہو یا مرض، کتابیں پاس ہوں یا وہ کتابوں سے دور ہوں، ان کا قلم ہر حال اور ہر فن میں یکساں دھواں دھار چلتاہے اور ہر طرح کی نگارشات و تخلیقات کی یہی شان علی الکمال نظر آتی ہے۔ انٹر نیشنل اسلا مک یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر سید عبد الرحمٰن بخاری لکھتے ہیں:

” لوگ احمد رضا کو اپنے عہد کا مجدد کہتے ہیں۔ اور میں اسے آنے والے ہر دور کے لئے اپنے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معجزہ سمجھتا ہوں۔ لوگ اسے فاضل بریلوی پکارتے ہیں اور میں اسے آیت الٰہی دیکھتا ہوں، لوگ اسے فقیہ و عالم ٹھہراتے ہیں اور میں اسے فہم دین میں” حجت” گردانتا ہوں” [٣٠]

 کثرتِ کار اور ہجومِ افکار کا بھی ذرا نظارہ کیجئے۔ لکھتے ہیں:

”فقیر کے یہاں علاوہ رد وہابیہ خذلہم اللہ تعالیٰ و دیگر مشاغِل کثیرہ دینیہ کے کار افتاء اس درجہ وافر ہے کہ دس مفتیوں کے کام سے زائد ہے۔ شہر و دیگر بلاد و امصار، جملہ اقطار ہندوستان و بنگال و پنجاب و ملیبارو برہما و ارکان و چین وغزنی و امریکہ و افریقہ حتیٰ سرکار حرمین محترمین سے استفتاء آتے ہیں اور ایک ایک وقت پانچ پانچ سو جمع ہو جاتے ہیں۔” [٣١]

سرعت تحریر اور شان فقاہت کے متعلق شیخ مولیٰنا اخوند جان بخاری مجاور حرمین لکھتے ہیں: ” الا یری الی ھذہ العجالۃ النافعتہ فانھاوان امکن تحریر ھا من غیر المؤلف الا لمعی التحریر لکنھا مما یستبعد اتماھا مماذکرہ من زمان قصیر،” [٣٢] ترجمہ: ”کیا اس مفید رسالہ کو نہیں دیکھتے، مجال ہے کہ ذکی الطبع اور ماہر علوم مصنف ( امام احمد رضا ) کے علاوہ کوئی لکھ سکے، مگر یہ بات بعید ہے کہ اتنی مختصر مدت میں کوئی ایسا رسالہ مکمل کر سکے۔”

ان کی ہر کتاب کا عنوان تاریخی اور عربی زبان میں ہے۔ یہ ایک اضافی خوبی ہے، جو ان کی تاریخ دانی، تاریخ گوئی اور بعجلت مادئہ تاریخ نکالنے پر دال ہے، یہ ایک مقالہ کا موضوع بن سکتا ہے۔ صرف ایک مثال پیش کی جاتی ہے:

(٭ التحبیر بباب التدبیر ، ١٣٠٥ھ)  صرف پندرہ صفحوں پر مشتمل یہ رسالہ ٢١/ آیات قرآنی، چالیس احادیث نبوی اور دیگر نصوص و جزئیات سے معمور ہے۔ پھر وہ کہتے ہیں : باب تدبیر میں آیات و احادیث اتنی نہیں کہ جنہیں کوئی حصر کرسکے۔ فقیر غفرلہ اللہ تعالیٰ دعویٰ کرتا ہے کہ انشاء اللہ اگر محنت کی جائے تو ، دس ہزار سے زائد آیات و احادیث اس پر جمع ہو سکتی ہیں۔ مگر کیا حاجت کہ آفتاب آمد دلیل آفتاب جس مسئلہ کے تسلیم پر تمام جہاں کے کاروبار کا دارومدار، اس میں زیادہ تطویل عبث و بے کار، انکار تدبیر کس قدر اعلیٰ درجہ کی حماقت، اخبث الامراض اور قرآن و حدیث سے صریح اعراض اور خدا و رسول پر کھلا اعتراض۔”[٣٣]

یہ امر یہیں تک بس نہیں، سیکڑوں مقالات و کتب اوردراسات و رسائل اسی طرح بے ساختہ، قلم برداشتہ بے تہیہ و تیاری کے لکھے گئے ہیں، قلم سے قلم نکلتی، شاخ سے شاخ پھوٹتی، چراغ سے چراغ جل اٹھتا اور تصانیف و تحقیقات کا انبار لگ جاتا ۔کیا کیا گنایا جائے ،کیا کیا بتایا جائے ،کس کس پہلو کو لیا جائے، کس کس جلوہ کو دیکھا جائے، سبحان اللہ ! ان کی ذات بلوریں آئینہ خانہ کی سی ہے۔ جہاں کہ روشنیوں کی برسات ہے، تجلیات کا سیلاب ہے ۔وہ شخص جو حق پسند پاؤں سے چل کر آتا ہے، حق پسند آنکھوں سے دیکھتاہے، حق پسند کانوں سے سنتا ہے اور حق پسند دل و دماغ سے سمجھتا ہے، نہال ہو جاتا ہے اور عناد و عصبیت ،نفرت و بغاوت سے آنے، دیکھنے، سننے اور سمجھنے والا ڈوب کر رہ جاتا ہے۔ ماہر ادبیات و لسانیات سید عبد اللہ طارق لکھتے ہیں:

 ”امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے علم کی عظمتوں کے کس پہلو کا بیان کروں، وہ علم کے سمندر تھے، ایک موج تک پہونچنے کی کوشش ہی کرتا ہوں کہ اگلی سر سراتی ہوئی ہوا سر کے اوپر سے گذر جاتی ہے، اور حد نگاہ تک ایسی موجیں ہی موجیں نظر آتی ہیں۔ کیا سمندر کو بھی کو زے میں بند کیا جا سکتاہے”[٣٤]

حوالہ جات

  1. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٥/٥ا
  2. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٦/٥ا
  3. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٧/٥ا
  4. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٩/٥ا
  5. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٦/٥ا
  6. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٦/٥ا
  7. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٩/٥ا
  8. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٩/٥ا
  9. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٩/٥ا
  10. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٩/٥ا
  11. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٩ء ٥٥٧/٥ا
  12. فتاویٰ قاضی خان باب التیمم مطبع نول کشور ٣٠/١
  13. سید محمد ظفر الدین مولیٰنا حیات اعلیٰ حضرت مکتبہ رضویہ، آرام باغ، کراچی ١٩٩٢ء ٢٦٧/١
  14. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ١٩٩٣ء ٢١٥/٤
  15. الفیوضات المکیہ ص:٧٢ بہ حوالہ فاضل بریلوی علماء حجاز کی نظر میں ص:٢٨
  16. محمد مصطفی رضا خان مولانا الطاری الداری لہفوات عبد الباری حسنی پریس، بریلی ١٩٢١ء ٢٩/٢
  17. محمد مصطفی رضا خان مولانا الطاری الداری لہفوات عبد الباری حسنی پریس، بریلی ١٩٢١ء ٣١/٢
  18. محمد مصطفی رضا خان مولانا الطاری الداری لہفوات عبد الباری حسنی پریس، بریلی ١٩٢١ء ٣٢، ٣١/٢
  19. محمد ظفر الدین مولیٰنا حیاتِ اعلیٰ حضرت مکتبہئ رضویہ، آرام باغ، کراچی ١٩٩٢ء ٢٢/١
  20. محمد ظفر الدین مولیٰنا حیاتِ اعلیٰ حضرت مکتبہئ رضویہ، آرام باغ، کراچی ١٩٩٢ء ٢٦/١
  21. سید محمد ظفر الدین رضویؔ مولانا حیاتِ اعلیٰ حضرت مکتبہئ رضویہ، آرام باغ، کراچی ١٩٩٢ء ص:٢٢، ٣٦،٣٨
  22. احمد رضا خان امام کرنسی نوٹ کے مسائل ادارہ افکار حق بائسی پورنیہ بہار ١٩٩٣ء ص:٥٧ و بعد
  23. احمد رضا خان امام کاسرا السفیہ مع کفل الفقیہ ادارہ افکار حق بائسی پورنیہ بہار ١٩٩٣ء ص:١٠٣
  24. احمد رضا خان امام کرنسی نوٹ کے مسائل ادارہ افکار حق بائسی پورنیہ بہار ١٩٩٣ء ص:١١٩ و بعد
  25. سید محمد ظفر الدین رضوی مولانا حیاتِ اعلیٰ حضرت مکتبہئ رضویہ، آرام باغ، کراچی ١٩٩٢ء ص:٣٨/١
  26. ایضاً
  27. سید محمد ظفر الدین رضوی مولانا حیاتِ اعلیٰ حضرت مکتبہئ رضویہ، آرام باغ، کراچی ١٩٩٢ء ص:٩٤/١
  28. محمد مسعود احمد پروفیسر محدثِ بریلوی ادارہئ تحقیقاتِ امام احمد رضا، کراچی ١٩٩٣ء ص: ٩٧
  29. ماہنامہ ”قاری” دہلی، امام احمد رضا نمبر ١٩٨٩ء ص: ٢٨
  30. سہ ماہی ”افکارِ رضا” بمبئی، شمارہ اپریل تا جون ٢٠٠٠ء مضمون سید عبد الرحمن بخاری، ص:٥٨
  31. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ مع تخریج و ترجمہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور ١٩٩٩ء ١٤٩/٤
  32. احمد رضا خان امام رسائلِ رضویہ، مطبوعہ لاہور، ص:١٥
  33. احمد رضا خان امام فتاویٰ رضویہ، رضا اکیڈمی بمبئی ١٩٩٤ء ١٨٥/١١
  34. مجلہ پیغامِ رضا کا امام احمد رضا نمبر، سیتا مڑھی بہار، جولائی ١٩٩٦ء مضمون ڈاکٹر سید عبد اللہ طارق، ص: ٢٣٤

 
 
 
Subscribe
 

Enter your Email Address below & Click Subscribe

 
 
 
 

Invite Someone to this Web Site

Your Name

Family/ Friend Email Address

Verification Code
  

Enter Your Name & Your Family/Friend Email Address above and click Invite Button!

Events
 
Ramadan-ul-Mubarak
Eid-e-Milad-un-Nabi (Salallaho Alaihi Wasallam)
Yom-e-Raza
Meraj-un-Nabi (Salallaho Alaihi Wasallam)
Shahdat-e-Hazrat Imam Hussain (Radi ALLAH Taala Unho)
 
 
 
 

 


Number of hits since July 09, 1998
49479096 49479096 49479096 49479096 49479096 49479096 49479096 49479096
Copyright © 1997 - 2019 by
NooreMadinah Network
Other Mirror Sites
Click here to Send this Page to your Friends/Family