Last updated on Thursday, August 14, 2008

  Thursday, August 21, 2008, 11:30:14 AM
 
Currently Active User:
NooreMadinah Network: A home for Quran & Sunnah, Islamic Beliefs, Media, Books, Literature, Gallery and everything you need to know about Islam.
Quote

Uthman ibn `Affan said: I heard Allah's Messenger say: "Verily, I know a phrase which no servant utters truthfully from his heart except the Fire is made unlawful for him." `Umar ibn al-Khattab said: "I shall tell you what that phrase is. It is the kalima of sincerity with which Allah has empowered Muhammad and his Companions, the kalima of fear of Allah which Allah's Prophet enjoined upon his uncle Abu Talib on his deathbed: the witnessing that there is no god but Allah." Ahmad related it in his Musnad (1:63 #449).

Search Site

 
Search In
 
 

Search Hadith

 
Select Hadith Book
Enter Hadith Text

 
Urdu Font Problem
Click here

More Links

 
 اسلامی عقائد
حدیث شریف
اسلامی شخصیات
عبادات
Urdu Section Main
 

Explore Site

 
Home

Al-Quran

Media Library
Islamic TV Programes
Urdu Unicode Books/Articles
English Articles

English Books

Urdu Books
Sisters Corner
Kids Corner
Services
Islamic Gallery
Forum
Contact Us
 

Top 5 Sites

 
Raza E Mustafa
Noor-e-Nabi
FaizaneMadinah
Faizan-e-Attar
Idara Tahqeeqat-e-Imam Ahmad Raza
View All Links
Submit Your Site
 

Requirements

 
Internet Explorer 5.0 or Later
Netscape
Real One Player
Adobe Acrobat Reader
 
Sign Guestbook
View Guestbook
 

امام احمد رضا قادری حنفی مخالفین کی نظر میں

از: مولانا کاشف اقبال مدنی قادری رضوی
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 

انتساب

اعلٰی حضرت امام اہل سنت مجدد اعظم کشتہ عشق رسالت شیخ الاسلام والمسلمین پاسبان ناموس رسالت امام الشاہ محمد احمد رضا خان حنفی بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نام جنہوں نے تمام بد مذہبوں کے خلاف جہاد فرما کر اہل اسلام کے ایمان کی حفاظت فرمائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور
آفتاب علم و حکمت منبع رشد و ہدایت محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا ابوالفضل محمد سردار احمد صاحب قدس سرہ العزیز کے نام جنہوں نے خطہءٰ پنجاب میں عشق رسول کی دولت کو عام کیا۔
نائب محدث اعظم پاکستان پاسبان مسلک رضا حامی سنت ماحی بدعت حضرت مولانا ابو محمد عبدالرشید قادری رضوی علیہ الرحمۃکے نام جنہوں نے بد مذہبوں کے رد کرنے میں فقیر کو خوب دعاؤں سے نوازا۔

گر قبول افتدز ہے عزوشرف
خادم اہل سنت
محمد کاشف اقبال مدنی قادری رضوی

 

پیش لفظ

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الکریم، اما بعد !!

چودہویں صدی کے مجدد، امام عشق و محبت، اعلٰی حضرت امام اہلسنت مولانا الشاہ احمد رضا خاں صاحب محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی ذات بے شمار خوبیوں کی مالک ہے، آپ نے ہر میدان میں فتوحات کے جھنڈے گاڑے، یہی وجہ تھی کہ آپ علیہ الرحمہ کی ذات سے اغیار بھی متاثر تھے جس کی بناء پر وہ آپ کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔

ایک مرتبہ مجھے کسی ساتھی نے بتایا کہ حیدر آباد شہر میں ایک بزرگ مفتی سید محمد علی رضوی صاحب مدظلہ العالی جلوہ افروز ہیں جن کو اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔ لٰہذا فقیر دل میں یہ آرزو لئے کہ اعلٰی حضرت کا دیدار تو نہ کیا مگر جس نے اعلٰی حضرت کو دیکھا ہے ان کی آنکھوں کا ہی دیدار ہو جائے، فقیر حیدر آبادر ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔

فقیر نے مفتی سید محمد علی رضوی صاحب سے عرض کی جس وقت اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کا وصال ہوا اس وقت کی کوئی یادگار بات ارشاد فرمائیں، آپ نے فرمایا جس وقت اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کا وصال ہوا اس وقت میں لاہور میں تھا عین اس وقت دیوبندی اکابر مولوی اشرف علی تھانوی کسی جلسے سے خطاب کر رہا تھا اس وقت مولوی اشرف علی تھانوی کو یہ اطلاع دی گئی کہ اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ بریلی شریف میں وصال فرما گئے ہیں تو اس وقت اس نے اپنی تقریر روک کر سامعین سے کہا کہ "اے لوگو ! آج سے عاشق رسول چلا گیا۔" جسے اس وقت کے تمام اخبارات نے شائع کیا، یہ میری زندگی کی یادگار بات ہے جسے میں آج تک نہیں بھلا پایا۔

اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ ساری زندگی دشمنان اسلام کے لئے شمشیر بے نیام بن کر رہے مگر اس کے باوجود باطل نظریات رکھنے والی کئی جماعتوں کے اکابرین نے اعلٰی حضرت کے متعلق تعریفی کلمات تحریر کئے، فقیر یہ سمجھتا ہے کہ یہ اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کی کرامت ہے کہ آپ کی قابلیت کو دیکھ کر مخالفین بھی تعریف لکھنے پر مجبور ہو گئے، زیر نظر کتاب بھی اسی عنوان پر ہے، جس میں مؤلف نے مخالفین کے اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ کے متعلق کم و بیش ستر تاثرات جمع کے ہیں، جن میں دیوبندی، غیر مقلدین اور جماعت اسلامی (مودودی گروپ) کے قائدین ادیب، علماء، شعراء اور ایڈیٹر حضرات نے اعلٰی حضرت کے حوالے سے اپنے خیالات اور تاثرات پیش کئے ہیں، اس کتاب کی اشاعت کا اہتمام سلسلہ اشاعت نمبر 154 میں جمعیت اشاعت اہلسنت نے کیا ہے۔

جمعیت اشاعت اہلسنت گزشتہ کئی سالوں سے یہ خدمت انجام دے رہی ہے تاکہ اکابر علماء کی کتابوں کو مفت شائع کرکے عوام اہلسنت کے گھروں تک پہنچایا جائے۔
اللہ تعالٰی اس کتاب کو عوام اہلسنت کے لئے نافع بنائے اور جمعیت اشاعت اہلسنت کو ترقیوں سے ہم کنار فرمائے، آمین ثم آمین

فقط والسلام
الفقیر محمد شہزاد قادری ترابی

 

تاثرات حضرت علامہ مولانا محمد بخش صاحب مدظلہ العالی
مفتی جامعہ رضویہ مظہر اسلام، فیصل آباد

مجاہد ملت مناظر اسلام فاضل ذیشان حضرت مولانا محمد کاشف اقبال مدنی شاہکوٹی کے متعلق جہاں تک فقیر کی معلومات کا تعلق ہے نہایت صحیح العقیدہ متعلب سنی حنفی بریلوی ہیں۔ مرکزی دارلعلوم جامعہ رضویہ مظہر اسلام گلستان محدث اعظم پاکستان فیصل آباد کے فارغ التحصیل ہیں مسلک حق اہلسنت و جماعت کے بے باک مبلغ ہیں۔ اعلٰی حضرت عظیم البرکت مجدد ماتہ حاضرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نظریات کے زبردست حامی اور ان پر سختی کے ساتھ کاربند ہیں اور امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی عنہ کے نظریات سے سر موانحراف کرنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہیں۔ وہابیہ دہابنہ کے سخت مخالف ہیں کئی مناظروں میں علمائے وہابیہ اور دہابنہ کو شکست فاش دے چکے ہیں۔ وہابیہ کے خلاف کئی کتابیں مثلاً

  1. مسائل قربانی اور غیر مقلدین
  2. مسائل رمضان اور بیس تراویح
  3. وہابیہ کے بطلان کا انکشاف
  4. خطرہ کی لال جھنڈی وغیرہ

تصنیف فرما چکے ہیں۔ بلاوجہ شرعی و بلا ثبوت ان کی ذات کو مشکوک جاننا امانت و دیانت کے خلاف ہے حق تو یہ ہے کہ ایسے نڈر بے باک خطیب و مبلغ کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئیے نہ کہ ان کی کردار کشی کی جائے اور ان کا حوصلہ پست کیا جائے۔ مولٰی تعالٰی سے دعا ہے کہ یااللہ کریم ! اس فاضل نوجوان کو استقامت فی الدین عطا فرما اور مسلک حق اہلسنت و جماعت کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما۔

الداعی فقیر ابو الصالح محمد بخش
خادم دارالافتاء جامعہ رضویہ مظہر اسلام فیصل آباد

 

تقریظ

شرف اہلسنت حضرت علامہ مولانا محمد عبدالحکیم شرف قادری مدظلہ العالی

بسم الرحمٰن الرحیم

حامدا و مصلیا و مسلما

عزیز محترم مولانا محمد کاشف اقبال مدنی حفظہ اللہ تعالٰی بحمدہ تعالٰی و تقدس راسخ العقیدہ سنی ہیں، پہلی ملاقات میں انہوں نے ایک مقالہ دکھایا جس کا عنوان تھا "عقائد اہل سنت قرآن و حدیث کی روشنی میں" اسے میں نے سرسری نظر سے دیکھا تو اس میں قرآن و حدیث کے حوالے بکثرت دکھائی دئیے۔ علمائے اہلسنت، علمائے دیوبند اور اہلحدیث کے بے شمار حوالے دکھائی دئیے، ایک طرف یہ مقالہ دیکھتا اور دوسری طرف اپنے سامنے ایک نو عمر بچے کو دیکھتا تو مجھے یقین نہ آتا کہ یہ اسی نے لکھا ہے، چند سوالوں کے بعد مجھے اطمینان ہو گیا کہ یہ مقالہ اسی ہونہار بچے نے لکھا ہے، ان کا مطالبہ تھا کہ اس پر تقریظ لکھ دیں، مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ میں نے اسی وقت تقریظ لکھ دی، اس کے بعد بھی ان سے ملاقاتیں رہیں، انہیں ہمیشہ مسلک اہل سنت کے تحفظ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے پایا، مخالفین کی کتابوں کا انہوں نے پوری بصیرت کے ساتھ وسیع مطالعہ کیا ہے۔ اللہ تعالٰی انہیں سلامت رکھے۔ اہل سنت کے بہت سے نوجوانوں کو یہ جذبہ اور سپرٹ عطا کرے۔

محمد عبدالحکیم شرف قادری
18، ربیع الاول 1425ھ

تقریظ

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جمیل رضوی صاحب

صدر مدرس جامعہ انوار مدینہ سانگلہ ہل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الصلوٰۃ و السلام علیک یاسیدی یارسول اللہ
وعلٰی اٰلک واصحابک یاسیدی یاحبیب اللہ
اللھم یامن لک الحمد والصلوٰۃ والسلام علی نبیک محمد وعلی الک نبیک المکرم وعلی اصحابنیک المکرم اما بعد حتی یمیز الخبیث من الطیب

مولانا کاشف اقبال مدنی قادری رضوی صاحب نے امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام عاشقاں اعلٰی حضرت عظیم البرکت امام شاہ محمد احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تعلب و نفحم نظریات پر بد مذاہب کے تاثرات اور تحسین امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پر دیانبہ و وہابیہ خبیثہ پلیدہ ملحدہ زندیقہ کے عقائد باطلہ اور اعلٰی حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے متعلق روافض و قیادنہ کے رد میں بھی بد مذاہب کی تائیدات مندرج فرمائی ہیں۔ امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے متعلق نوادر روایات بد مذاہب کی تکفیر و تذلیل پر خود ان کی زبانی نقل فرمائی ہیں۔

اگر وہابیہ و دیابنہ و دیگر بد عقیدہ لوگ تعصب کی عینک اتار کر مطالعہ کریں تو مشعل راہ ہوگی۔ مدنی قادری رضوی صاحب کا نظریہ عقیدت اہلسنت کے لئے تحفہء نایاب ہے۔ اللہ تعالٰی اس تحریر سے اہلسنت کو مستفیض و مستیز فرمائے۔

احقر العباد (ابو محمد جیلانی رضوی)
محمد جمیل رضوی
خطیب جامع مسجد مدنی فیصل آباد
و صدر مدرس جامعہ انوار مدینہ سانگلہ ہل
23، ربیع الاول 1425ھ

 

مناظر اہلسنت ابو الحقائق علامہ مولانا غلام مرتضٰی ساقی مجددی

حق اور باطل ہمیشہ سے برسر پیکار ہیں، جس دور میں بھی باطل نے اپنا سر اٹھایا تو اہل حق نے اپنی ایمانی اور روحانی قوت سے اس سے پنجہ آزمائی کی اور اسے دُم دبا کر بھاگ نکلنے کے لئے مجبور کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان میں باطل جب وہابیت و دیوبندیت کی مکروہ شکل میں نمودار ہوا تو اس کی سرکوبی کے لئے دیگر اکابرین اہل سنت کے علاوہ امام اہل سنت، اعلٰی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام محمد احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمۃ نے نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ نے اپنے زور قلم سے باطل کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کر ڈالا، اور منکرین کو اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ کے مقابلہ کی جراءت نہ ہو سکی۔۔۔۔۔۔ آپ خود فرماتے ہیں۔

کلک رضا ہے خبجر خونخوار برق بار
اعداء سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں

آپ نے قلیل وقت میں رد وہابیت پر اس قدر خدمات دیں ہیں کہ اتنی مدت میں ایک ادارہ اور ایک تنظیم بھی سر انجام دینے سے قاصر ہیں۔

آپ کی تحریک سے ہی مسلمانان اہلسنت، وہابی، دیوبندی عقائد سے باخبر ہو کر ان سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔ علماء و مشائخ اہل سنت نے مختلف انداز میں عوام الناس کو ان کے عقائد باطلہ اور افکار فاسدہ سے متعارف کرایا۔ اور اپنے متعلقین و منسلکین کو ان سے اعراض ولا تعلقی کا حکم فرمایا۔

دور حاضرہ میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے علماء و مشائخ ان لوگوں کے خیالات فاسدہ کی تغلیظ و تردید میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ اس دور کا بہت ہی خطرناک فتنہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے ان کے افکار و نظریات کی تردید کی جتنی زیادہ ضرورت ہے ہمارے علماء و مشائخ اتنی ہی زیادہ سستی اور عدم توجہ سے کام لے رہے ہیں۔ اس عمل میں کونسا راز پنہاں ہے اسے وہ حضرات بخوبی سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ بایں ہمہ دور حاضر میں ایسے مجاہدین اسلام بھی موجود ہیں جو سردھڑکی بازی لگا کر بھی حق و صداقت کے مبارک علم کو لہرانا چاہتے ہیں۔ انہی خوش نصیب افراد میں ہمارے نڈر محقق، معتدد کتب کے مصنف، مناظر اہل سنت، فاتح دیوبندیت حضرت مولانا محمد کاشف اقبال خان مدنی کا بھی شمار ہوتا ہے۔ آپ نے اپنی پیش نظر کتاب "امام احمد رضا، مخالفین کی نظر میں" وقیع دلائل اور صریح حوالہ جات سے اس حقیقت کو ثابت کر دکھایا ہے کہ اعلٰی حضرت علیہ الرحمۃ حق و صداقت اور علم و حکمت کا وہ کوہ گراں تھے کہ جن کی تعریف میں اپنے تو ایک طرف بیگانے بھی رطب اللسان ہیں اور آپ نے جو اکابرین دیوبند کی تکفیر کی ہے وہ ریت پر اٹھائے گئے محل کی طرح بے بنیاد نہیں ہے بلکہ یہ ایسا مضبوط قلعہ ہے کہ جس کی بنیادیں کبھی لرزہ براندم نہیں ہو سکتیں اور اس کا اعتراف دیوبندی علماء کو بھی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بارگاہ رب العزت میں دعا ہے کہ مولٰی تعالٰی حضرت مصنف کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اس تصنیف کو اہل حق کے لئے باعث تقویت اور اہل باطل کے لئے ذریعہ ہدایت بنائے۔ آمین

العبد الفقیر ابو الحقائق
غلام مرتضٰی ساقی مجددی
10 مئی 2004ء

 

ِنحمدہ و نصلی ونسلم علی رسولہ الکریم

اما بعد ! امام اہل سنت مجدد دین و ملت کشتہء عشق رسالت شیخ الاسلام و المسلمین امام عاشقان حضرت امام محمد احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ علم و دانش کے سمندر تھے۔ ان کے علم کی ایک جھلک دیکھ کر علمائے عرب و عجم حیران رہ گئے۔ محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے تقریباً تمام علوم و فنون پر اپنی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں۔

وہ جامع علوم و فنون شخصیت کے مالک تھے۔ محدث بریلوی ایک عقبری شخصیت تھے۔ آپ نے پوری شدت و قوت کے ساتھ بدعات کا رد کیا اور احیاء سنت کا اہم فریضہ ادا کیا۔ علماء عرب و عجم نے آپ کو چودہویں صدی کا مجدد قرار دیا۔

محبت و عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کا طرہء امتیاز تھا یہی ان کی زندگی اور یہی ان کی پہچان، وہ خود فرماتے ہیں کہ میرے دل کے دو ٹکڑے کئے جائیں تو ایک پر لاالہ الا اللہ اور دوسرے پر محمد رسول اللہ (صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم) لکھا ہوگا آپ کا لکھا ہوا سلام مصطفٰے جان رحمت پہ لاکھوں سلام پوری دنیا میں پڑھا جاتا ہے۔

آپ کی کتب کی ایک ایک سطر سے عشق رسول کی جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ کے عشق رسول کا اپنے ہی نہیں بیگانے بھی موافق ہی نہیں مخالف بھی دل و جان سے اقرار کرتے ہیں۔ آپ نے رسول کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بے ادب گستاخ فرقوں کا پوری قوت سے قلع قمع کرنے کے لئے جہاد فرمایا۔ دیوبندی کوثر نیازی مولوی کے بقول بھی "جسے لوگ امام احمد رضا بریلوی کا تشدد کہتے ہیں وہ بارگاہ رسالت میں ان کے ادب و احتیاط کی روش کا نتیجہ ہے۔ آپ کو ہر فن میں کامل دسترس حاصل تھی۔ بلکہ بعض علوم میں آپ کی مہارت حد ایجاد تک پہنچی ہوئی تھی۔

آپ کے رسالہ مبارک الروض البمیج فی آداب التخریج کے متعلق لکھتے ہیں۔ کہ اگر پیش ازیں کتابے وریں فن نیافتہ شودپش مصنف راموجد تصنیف ہذامی تواں تفت (تذکرہ علمائے ہند فارسی صفحہ 17) ترجمہ :۔ اگر (فن تخریج حدیث میں) اور کوئی کتاب نہ ہو، تو مصنف کو اس تصنیف کا موجد کہا جا سکتا ہے۔

علم توقیت میں اس قدر کمال حاصل تھا کہ دن کو سورج اور رات کو ستارے دیکھ کر گھڑی ملا لیا کرتے تھے وقت بالکل صحیح ہوتا اور ایک منٹ کا بھی فرق نہ ہوتا۔

علم ریاضی میں بھی آپ کو حد سے زیادہ اعلٰی درجہ کی مہارت حاصل تھی کہ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ریاضی کے ماہر ڈاکٹر سر ضیاء الدین آپ کی ریاضی میں مہارت کی ایک جھلک دیکھ کر انگشت بدندان رہ گئے۔

علم جفر میں بھی محدث بریلوی علیہ الرحمۃ یگانہء روزگار تھے۔ الغرض اعلٰی حضرت محدث بریلوی تمام علوم و فنون پر کامل دسترس رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ دینی اور ہر قسم کے علوم و فنون کے ماہر تھے۔

اعلٰی حضرت فاضل بریلوی پاک و ہند کے نابغہء روزگار فقہیہ، محدث، مفسر اور جامع علوم و فنون تھے۔ مگر افسوس کہ ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ حضور سیدنا مجدد اعظم محدث بریلوی جتنی عظیم المرتبت شخصیت تھے آپ اتنے ہی زیادہ مظلوم ہیں اور اس ظلم میں حامی و مخالف سبھی شامل ہیں جو آپ سے محبت کا دعوٰی کرتے ہیں مگر انہوں نے آپ کی شخصیت کا عوام کے سامنے اجاگر نہیں کیا۔ آپ کی عظمت پر بہت معمولی کام کیا۔ بلکہ کئی مکار لوگوں نے آپ کا نام لیکر آپ کو ناحق بدنام کیا۔ جتنا اعلٰی حضرت فاضل بریلوی نے گمراہی اور بدعات کا قلع قمع کیا، اتنا ہی بدعات کو رواج دے کر حضور اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف آپ کے مخالفین نے اس علمی شخصیت کو مسخ کرنے کی کوشش کی۔ آپ پر بے بنیاد الزامات کے انبار لگا دئیے گویا اعلٰی حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی عظیم عبقری شخصیت اپنوں کی سرد مہری اور مخالفین کے حسد اور بغض و عداوت کا شکار ہو کر رہ گئی اور یہی ایک بہت بڑا المیہ ہے مگر یہ تو واضح ہے کہ حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کے علمی رعب و دبدبہ کا یہ حال تھا کہ آپ کے کسی مخالف کو آپ سے مناظرے کی جراءت نہ ہو سکی۔ جوں جوں تحقیق ہوئی۔ اعلٰی حضرت محدث بریلوی کی شخصیت اپنی اصلی حالت میں نمایاں ہوئی اور ان کے علم و فضل کا چرچا از سر نو شروع ہو گیا اور صرف اپنے ہی نہیں بیگانے بھی حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ آج بھی لوگ آپ کے متعلق عوام کو غلط تاثر دیتے ہیں۔

ہم دیوبندی وہابی مذہب کے اکابرین کے تاثرات اس رسالے میں جمع کر رہے ہیں تاکہ عوام کو معلوم ہو جائے کہ دیوبندی وہابی جو محدث بریلوی کے متعلق ہرزرہ سرائی کرتے ہیں غلط ہے۔ مطالعہ بریلویت وغیرہ کتابیں لکھ کر طوفان بدتمیزی برپا کرنے والے لوگ صرف بہتان ترازی اور بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں۔ حقیقت سے ان کا کچھ تعلق نہیں۔ ان لوگوں کو کم از کم اپنے ان اکابرین کو ان اقوال کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔ مولٰی تعالٰی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے مذہب حق اہل سنت و جماعت (بریلوی) پر استقامت اسی پر زندگی اور اسی پر موت عطا فرمائے۔ (آمین)

بانی دیوبندی مذہب محمد قاسم نانوتوی

  1. دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب (نانوتوی) دہلی شریف رکھتے تھے۔ اور ان کے ساتھ مولانا احمد حسن امروہوی اور امیر شاہ خان صاحب بھی تھے شب کو جب سونے کے لئے لیٹے تو ان دونوں نے اپنی چارپائی ذرا الگ کو بچھالی، اور باتیں کرنے لگے۔ امیر شاہ خان صاحب نے مولوی صاحب سے کہا کہ صبح کی نماز ایک برج والی مسجد میں چل کر پڑھیں گے، سنا ہے کہ وہاں کے امام قرآن شریف بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ ارے پٹھان جاہل (آپ میں بے تکلفی بہت تھی) ہم اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے وہ تو ہمارے مولانا (نانوتوی) کی تکفیر کرتا ہے۔ مولانا (نانوتوی) نے سن لیا اور زور سے فرمایا۔ احمد حسین میں تو سمجھا تھا تو لکھ پڑھ گیا ہے مگر جاہل ہی رہا۔ پھر دوسروں کو جاہل کہتا ہے۔ ارے کیا قاسم کی تکفیر سے وہ قابل امامت نہیں رہا میں تو اس سے اُس کی دینداری کی معتقد ہوگیا۔ اس نے میری کوئی ایسی ہی بات سنی ہوگی جس کی وجہ سے میری تکفیر واجب تھی۔ گو روایت غلط پہنچی ہو، تو یہ راوی پر الزام ہے۔ تو اس کا سبب دین ہی ہے اب میں خود اس کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔ غرضیکہ صبح کی نماز مولانا (نانوتوی) نے اس کے پیچھے پڑھی۔ (افاضت الیومیہ ج 4 / 394 طبع ملتان)

    نانوتوی صاحب کے نزدیک جاہل تو وہی ہے جو نانوتوی کی تکفیر کرنے والے کو برا کہتا ہے۔ تو بتائیے کہ سیدی اعلٰی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ پر کیا وجہ اعتراض ہے۔
     
  2. تحذیرالناس پر جب مولانا (نانوتوی) پر فتوے لگے، تو جواب نہیں دیا: یہ فرمایا کہ کافر سے مسلمان ہونے کا طریقہ بڑوں سے یہ سنا ہے۔ کہ بندہ کلمہ پڑھنے سے مسلمان ہو جاتا ہے تو میں کلمہ پڑھتا ہوں۔ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ( افاضات الیومیہ، ج4 صفحہ 395 طبع ملتان، ج8 صفحہ 238 )

الفضل ماشھدت بہ الاعداء

اب آپ ہی بتائیے کہ حضور اعلٰیحضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے جو حکم شرعی واضح کیا۔ اس میں آپ کا کیا قصور ہے " ضمناً آپ کو یہ بھی عرض کروں، کہ بانی دیوند قاسم نانوتوی کی وجہ تکفیر کیا ہے۔ اس لئے کہ دیوبندی حضور اعلٰی حضرت فاضل بریلوی کو نعوذ باللہ مکفرالمسلمین کہتے پھرتے ہیں۔ حالانکہ دیوبندی مذہب کی بنیادی کتب "تقویۃ الایمان، فتاوٰی رشیدیہ، بہشتی زیور وغیرہ سے واقف حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ مکفرالمسلمین اعلٰی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ نہیں۔ بلکہ یہی دیوبندی اکابر ہیں۔ ان کے شرک و کفر کے فتوؤں سے کوئی بھی محفوظ نہیں، نہ ہی انبیاء و اولیاء اور نہ ہی کوئی اور، تو لیجئے سنئیے:۔ کہ نانوتوی صاحب کی وجہ تکفیر کیا ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ بانی دیوبند قاسم نانوتوی نے اہل اسلام کے اجتماعی عقیدہ ختم نبوت کا انکار کیا ہے اور خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کی ہے۔ نانوتوی کی چند ایک عبارات ہدیہ قارئین کی جاتی ہیں۔

بانی دیوبند قاسم نانوتوی لکھتے ہیں:

سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلعم کا خاتمہ ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تآخر زمانہ میں بالذات کچھ فضیلت نہیں، پھر مقام مدح میں ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے۔ (تحذیر الناس صفحہ3 طبع دیوبند)

اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلعم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ (تحذیرالناس صفحہ 28 طبع دیوبند)

آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سو آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت العرض۔ (تحذیرالناس صفحہ4 طبع دیوبند)

تمام اہل اسلام خاتم النبیین کا معنی آخری نبی کرتے ہیں اور کرتے رہے مگر نانوتوی نے اسے جاہل عوام کا خیال بتایا۔ یہ تحریف فی القرآن ہے۔ پھر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبی پیدا ہونے کو خاتمیت محمدی، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے میں کوئی فرق نہ پڑنا بتایا جو کہ ختم نبوت کا انکار ہے۔ واضح طور پر خاتم النبیین کا ایسا معنی تجویز کیا گیا جس سے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوٰی نبوت کا رستہ ہموار ہو گیا اور مرزائی اپنی حمایت میں آج بھی تحذیرالناس پیش کرتے ہیں تو دیوبندی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ قادیانیوں نے اس پر مستقل رسالہ بھی لکھ کر شائع کیا ہے۔ "افادات قاسمیہ" نبوت کی تقسیم بالذات بالعرض نانوتوی کی ایجاد ہے۔

تحذیرالناس کی تمام کفریہ عبارات کی تردید مدلل و مفصل کے لئے غزالی زماں حضرت مولانا احمد سعید کاظمی علیہ الرحمہ کی کتاب "التبشیر برد التحذیر" ، شیخ القرآن مولانا غلام علی اوکاڑوی علیہ الرحمۃ کی کتاب "التنویر" اور ماہنامہ کنزالایمان کا ختم نبوت نمبر اور راقم الحروف فقیر کی کتاب "عبارات تحذیرالناس پر ایک نظر" اور "مسئلہ تکفیر" میں ملاحظہ کیجئے اختصار مانع ہے صرف ایک حوالہ دیوبندی مذہب کا ہی حاضر خدمت ہے۔ دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:

جب مولانا محمد قاسم صاحب۔۔۔۔۔۔۔ نے کتاب تحذیرالناس لکھی تو سب نے مولانا محمد قاسم صاحب کی مخالفت کی بجز مولانا عبدالحئی صاحب نے۔ (قصص الاکابر صفحہ 159 طبع جامعہ اشرفیہ لاہور)

جس وقت مولانا نے تحذیرالناس لکھی ہے کسی نے ہندوستان بھی میں مولانا کے ساتھ موافقت نہیں کی بجز مولانا عبدالحئی صاحب کے۔ (افاضات الیومیہ ج5 صفحہ 296 طبع ملتان) دیوبندی حکیم الامت اشرف علی تھانوی

 

  1. دیوبندی خواجہ عزیزالحسن مجذوب لکھتے ہیں مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی کی بھی جن کی سخت ترین مخالفت اہل حق سے عموماً اور حضرت والا (تھانوی اشرف علی) سے خصوصاً شہرہ آفاق ہے ان کے بھی ُبرا بھلا کہنے والوں کے جواب میں دیر دیر تک حمایت فرمایا کرتے ہیں اور شد و مد کے ساتھ ر