Last updated on Wednesday, November 12, 2008

  Saturday, November 22, 2008, 5:45:21 AM
 
Currently Active User:
NooreMadinah Network: A home for Quran & Sunnah, Islamic Beliefs, Media, Books, Literature, Gallery and everything you need to know about Islam.
Quote

Uthman ibn `Affan said: I heard Allah's Messenger say: "Verily, I know a phrase which no servant utters truthfully from his heart except the Fire is made unlawful for him." `Umar ibn al-Khattab said: "I shall tell you what that phrase is. It is the kalima of sincerity with which Allah has empowered Muhammad and his Companions, the kalima of fear of Allah which Allah's Prophet enjoined upon his uncle Abu Talib on his deathbed: the witnessing that there is no god but Allah." Ahmad related it in his Musnad (1:63 #449).

Search Site

 
Search In
 
 

Search Hadith

 
Select Hadith Book
Enter Hadith Text

 
Urdu Font Problem
Click here

Top Rated

 
دو قومی نظریہ اورمولانا احمد رضا خاں بریلوی
امام احمد رضااور فن تفسیر
محدث بریلوی اور تعلیم و تربیت
سوانح اعلٰی حضرت احمد رضا خان
تذکرہ امام احمد رضا
وصیت اعلٰیحضرت پر عمل کریں
امام احمد رضا کی عالمی اہمیت
Urdu Index
 

Explore Site

 
Home

Al-Quran

Media Library
Islamic TV Programes
Urdu Unicode Books/Articles
English Articles

English Books

Urdu Books
Sisters Corner
Kids Corner
Services
Islamic Gallery
Forum
Contact Us
 

Top 5 Sites

 
Raza E Mustafa
Noor-e-Nabi
FaizaneMadinah
Faizan-e-Attar
Idara Tahqeeqat-e-Imam Ahmad Raza
View All Links
Submit Your Site
 

Requirements

 
Internet Explorer 5.0 or Later
Netscape
Real One Player
Adobe Acrobat Reader
 
Sign Guestbook
View Guestbook
 

صحیح بخاری

وحی کا بیان - کتاب الوحی
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 

حدیث نمبر 3

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رضى الله عنها، أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ ـ وَهُوَ التَّعَبُّدُ ـ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ، فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا أَنَا بِقَارِئٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ‏.‏ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ‏.‏ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ‏.‏ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ‏.‏ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ ‏{‏اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ‏}‏ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رضى الله عنها فَقَالَ ‏"‏ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي ‏"‏‏.‏ فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ ‏"‏ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي ‏"‏‏.‏ فَقَالَتْ خَدِيجَةُ كَلاَّ وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ‏.‏ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ابْنَ عَمِّ خَدِيجَةَ ـ وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعِبْرَانِيَّ، فَيَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ ـ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ يَا ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ‏.‏ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَبَرَ مَا رَأَى‏.‏ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى صلى الله عليه وسلم يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ، لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلاَّ عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا‏.‏ ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْىُ‏.
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ ـ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْىِ، فَقَالَ ـ فِي حَدِيثِهِ ‏"‏ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي، إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا، مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَرَجَعْتُ فَقُلْتُ زَمِّلُونِي‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ‏}‏ فَحَمِيَ الْوَحْىُ وَتَتَابَعَ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو صَالِحٍ‏.‏ وَتَابَعَهُ هِلاَلُ بْنُ رَدَّادٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ‏.‏ وَقَالَ يُونُسُ وَمَعْمَرٌ ‏"‏ بَوَادِرُهُ ‏"‏‏.
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا اچھے خوابوں سے ہوئی۔ آپ جو خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا۔ پھر آپ خلوت پسند ہوگئے اور غارِ حرا میں جانے لگے۔ وہاں کئی کئی راتیں ٹھہر کر عبادت کرتے، کاشانہ آقدس کی طرف لوٹنے سے پہلے اور کھانے پینے کی چیزیں لے جاتے۔ پھر حضرت خدیجہ کی طرف لوٹتے اور وہ اُسی طرح کھانے پینے کا بندوبست کر دیا کرتیں۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس حق آگیا جب کہ آپ غارِ حرا میں تھے یعنی فرشتے نے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر کہا:-پڑھیے۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں:- میں نے کہا:- میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اُس نے مجھے پکڑ کر بڑے زور سے دبایا۔ پھر چھوڑتے ہوئے کہا:- پڑھیے، میں نے کہاں، میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اُس نے مجھے پکڑ کر دوبارہ بڑے زور سے دبایا۔ پھر چھوڑا دیا اور کہا، پڑھیے، میں نے کہا، میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔ اُس نے مجھے پھر پکڑا اور سہ بارہ دبایا۔ پھر مجھے چھوڑ کر کہا، پڑھو اپنے رب کے نام سے، جس نے پیدا کیا۔ آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا رب ہی سب سے بڑا کریم ہے(3:96-1)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ واپس لوٹے۔ آپ کا دل کانپ رہا تھا۔ پس حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا، مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ انہوں نے کمبل اڑھا دیا۔ یہاں تک کہ خوف دور ہوگیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سارا واقعہ بتاتے ہوئے فرمایا کے مجھے اپنی جان کا ڈر ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہاں کہ خدا کی قسم، ہر گز نہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے، محتاجوں کے لیے کماتے، مہمان کی ضیافت کرتے اور راہِ حق میں مصائب برداشت کرتے ہیں۔ پس حضرت خدیجہ آپ کو ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبدالعزّیٰ کے پاس لے گئیں جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چچا زاد تھے۔ وہ جاہلیت میں نصرانی ہو گئے تھے اور عبرانی میں کتابت کیا کرتے تھے۔ پس جو اللہ چاہتا وہ انجیل سے عبرانی میں لکھا کرتے۔ وہ بوڑھے اور بینائی سے محروم تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان سے کہا، اے چچا کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنیے۔ ورقہ نے آپ سے کہا، اے بھتیجے، تم کیا دیکھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا تھا اسے بتا دیا۔ پس ورقہ نے آپ سے کہا کہ یہی تو وہ ناموس ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا۔ اے کاش میں جوان ہوتا۔ اے کاش میں زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو نکالے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا وہ مجھے نکالیں گے؟ کہا ہاں، جب بھی کوئی شخص یہ چیز لے کر آیا جیسی آپ لائے ہیں تو اس کے ساتھ عداوت کی گئی۔ اگر میں اس وقت تک زندہ رہا تو آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔ چند دنوں بعد ورقہ نے وفات پائی اور وحی کا سلسلہ بھی رک گیا۔ ابنِ شہاب کا بیان ہے کہ مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، انھوں نے وحی کا سلسلہ بند ہونا بیان کرتے ہوئے اپنی حدیث میں کہا، میں (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی۔ نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ زمین و آسمان کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا جو میرے پاس حرا میں آیا تھا۔ میں اس سے ڈر گیا، واپس لوٹا اور کہا، مجھے کمبل اڑھاؤ، مجے کمبل اڑھاؤ،  پس اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی، " اے بالاپوش اوڑھنے والے، کھڑے ہوجاؤ، پھر ڈر سناؤ اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور بتوں سے دور رہو (5:74-1) پس وحی متوتر اتر آنے لگی۔ متابعت کی ہے اس کی عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے نیز ہلال بن رواد نے بھی زہری سے جب کہ یونس اور معمر نے بوادرہ کہا ہے۔

 
 
 
Subscribe
 

Enter your Email Address below & Click Subscribe

 
 
 
 

Invite Someone to this Web Site

Your Name

Family/ Friend Email Address

Verification Code
  

Enter Your Name & Your Family/Friend Email Address above and click Invite Button!

Events
 
Ramadan-ul-Mubarak
Eid-e-Milad-un-Nabi (Salallaho Alaihi Wasallam)
Yom-e-Raza
Meraj-un-Nabi (Salallaho Alaihi Wasallam)
Shahdat-e-Hazrat Imam Hussain (Radi ALLAH Taala Unho)
 
 
 
 

 


Number of hits since July 09, 1998
18412333 18412333 18412333 18412333 18412333 18412333 18412333 18412333
Copyright © 1997 - 2008 by
NooreMadinah Network
Other Mirror Sites
Click here to Send this Page to your Friends/Family