|
|
|
صحیح بخاری |
کِتَابُ الایمان - ایمان کا بیان
(باب 2 - باب 30) حدیث نمبر 7 - 39
|
|
| |
|
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم |
|
باب 2 |
|
قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ وَهُوَ قَوْلٌ وَفِعْلٌ، وَيَزِيدُ وَيَنْقُصُ. قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ}. {وَزِدْنَاهُمْ هُدًى} {وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى} {وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ} {وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا} وَقَوْلُهُ {أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا}. وَقَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ {فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا}. وَقَوْلُهُ تَعَالَى {وَمَا زَادَهُمْ إِلاَّ إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا}. وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ مِنَ الإِيمَانِ. وَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ إِنَّ لِلإِيمَانِ فَرَائِضَ وَشَرَائِعَ وَحُدُودًا وَسُنَنًا، فَمَنِ اسْتَكْمَلَهَا اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَكْمِلْهَا لَمْ يَسْتَكْمِلِ الإِيمَانَ، فَإِنْ أَعِشْ فَسَأُبَيِّنُهَا لَكُمْ حَتَّى تَعْمَلُوا بِهَا، وَإِنْ أَمُتْ فَمَا أَنَا عَلَى صُحْبَتِكُمْ بِحَرِيصٍ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ {وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي}. وَقَالَ مُعَاذٌ اجْلِسْ بِنَا نُؤْمِنْ سَاعَةً. وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ الْيَقِينُ الإِيمَانُ كُلُّهُ. وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لاَ يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ التَّقْوَى حَتَّى يَدَعَ مَا حَاكَ فِي الصَّدْرِ. وَقَالَ مُجَاهِدٌ {شَرَعَ لَكُمْ} أَوْصَيْنَاكَ يَا مُحَمَّدُ وَإِيَّاهُ دِينًا وَاحِدًا. وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ {شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا} سَبِيلاً وَسُنَّةً وَّ دُعَاؤُكُمْ إِيمَانُكُمْ
|
|
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اور وہ قول ہے اور فعل بڑھتا ہے اور گھٹتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- تاکہ ایمانوں کے ساتھ اُن کےایمان اور بڑھ جائیں گے اور ہم نے ان کے لیے ہدایت کو بڑھا دیا اور اللہ ان کی ہدایت کو بڑھا دیتا ہے جو ہدایت پر ہیں اور جو ہدایت پر تھے ان کی ہدایت کو بڑھادیا اور انھیں ان کا تقویٰ دیا اور ایمان والوں کے ایمان کو بڑھا دیتا ہے۔ اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے اس چیز نے تم میں سے کس کے ایمان کو بڑھایا؟ پس جو ایمان والے تھے ان کے ایمان کو بڑھایا اور ارشادِ ربّانی ہے :- اور نہیں زیادہ کیا مگر ان کے ایمان اور اسلام کو نیز اللہ کے لیے محبت رکھنا اور اللہ کے لیے عداوت رکھنا ایمان کا حصہ ہے اور عمربن عبدالعزیز نے عدی بن عدی کے لیے لکھا کہ ایمان کے کچھ فرائض، ضابطے، حدود اور طریقے ہیں، جس نے ان کی تکمیل کی اس نے ایمان کو مکمل کر دیا اور جس نے ان کی تکمیل نہ کی اس نے ایمان کو مکمل نہ کیا۔ اگر میں زندہ رہا تو تمہیں تفصیلاً بتاؤنگا تاکہ تم انھیں جان لو اور اگر فوت ہوگیا تو مجھے تمہارے پاس زندہ رہنے کا لالچ بھی نہیں ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا :- تاکہ میرے دل کو عین الیقین ہو جائے اور حضرت معاز نے کہا: ہمارے پاس بیٹھو تاکہ ہم ایک ساعت مطمئن رہیں حضرت ابنِ مسعود نے فرمایا کہ یقین ہی سارا ایمان ہے اور حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ بندہ تقویٰ کی حقیقت تک نہیں پہنچتا یہاں تک کہ ان چیزوں کو چھوڑ دے جو دل میں کھٹکتی ہیں۔ اور مجاہد نے شَرَعَ لَکُمْْ مِنَ الدّیْْنِ مَا وَصّی بِہ نُوْْحاً کی تفسیر میں کہا: اے محمد! ہم نے تمہیں اور اُسے ایک ہی دین کی وصیت فرمائی۔ حضرت ابنِ عباس نے شِرْْعَۃً وَّ مِنْْھَاجاً کی تفسیر میں فرمایا: راستہ اور طریقہ اور تمہارا دعا کرنا بھی تمہارے ایمان کا حصہ ہے۔
|
|
|
|
ف: امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک دیگر محدثین کی طرح اعمال بھی ایمان میں داخل ہیں۔ ایمان کا لفظ امن سے مشتق ہے جس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایمان لاکر آدمی اپنے آپ کو آخرت اور عذاب سے بچالیتا ہے۔ ایمان سے مراد اللہ تعالیٰ کے وجود اُس کی الوہیت ووحدانیت کو تسلیم کرنا نیز رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو برحق رسول اور سارے انبیاءومرسلین میں سب سے آخری نبی و رسول تسلیم کرنے کو کہتے ہیں۔ علاوہ بریں سارے اسلامی عقائد کو قبول کرنا اور اُن کے ساتھ ہی سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو احکام اور خبریں لوگوں تک پہنچائیں اور وہ قطعی طور پر یا تواتر سے ثابت ہیں ان کو درست مان کر قبول کیا جائے ایسا کرنے والا صاحبِ ایمان کہلاتا ہے۔
امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور محدثین حضرات کے نزدیک جہاں تصدیق اور اقرار دونوں ایمان کے اجزا ہیں وہاں یہ بزرگ اعمال کو بھی ایمان کے اجزا میں شامل کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا موقف بھی یہی ہے۔ اسی لیے یہ جملہ بزرگ ایمان میں کمی اور زیادتی کے قائل ہیں لیکن اس کے باوجود بے عمل اور بدعمل کو معتزلہ کی طرح ایمان سے خارج نہیں کرتے بلکہ اسے فاسق کہتے ہیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ایمان کے صرف دو اجزا ہیں یعنی دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار۔ لیکن اضطراری حالت میں ان کے نزدیک اقرار بھی ساقط ہوجاتا ہے گویا اقرار صرف صورتاً ایمان کا جزو ہے ورنہ اقرار شرط ہے جس کے باعث ایسے فرد پر اسلامی احکام جاری ہوتے ہیں۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ کے نزدیک اعمال شامل ایمان نہیں ہیں بلکہ یہ ایمان کا حسن وجمال اور زیب و زینت ہیں نیز ایمان میں ان کے نزدیک کمی اور زیادتی واقع نہیں ہوتی کیونکہ وہ تصدیق اور اقرار پر موقوف ہے اور تصدیق و اقرار کے اندر کمی بیشی متصور نہیں ہے۔ ہاں ان کے نزدیک ایمان قوی اور ضعیف ہوتا ہے کمی اور بیشی اسی صورت میں تسلیم ہو سکتی ہے جب اعمال کو شامل ایمان سمجھا جائے۔ علم کلام کے دونوں اماموں یعنی امام ابوالحسن شعری اور امام ابو منصور ماتریدی رحمۃ اللہ علیہما کا موقف بھی امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے موقف سے مطابقت رکھتا ہے اور کتنے ہی علمائے محققین کی یہی رائے ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔
|
| |
|
حدیث نمبر 7 |
| حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ". |
| عکرمہ بن خالد نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : گواہی دینا کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ نیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج اور رمضان کے روزے۔ |
|
|
|
باب 3 |
|
أُمُورِ الإِيمَانِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ}. وَقَوْلِهِ {قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ} الآيَةَ.
|
|
امور ایمان : اللہ عزوجل کا ارشاد ہے : بھلائی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف کر لو بلکہ اصل بھلائی یہ ہے جو اللہ پر ایمان لایا اَلْْمُتّقُوْْنَ تک (177:2) نیز فرمایا وہ ایمان والے نجات پاگئے۔ |
|
|
|
حدیث نمبر 8 |
| حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ ". |
| عبداللہ بن محمد جعفی، ابو عامر عقدی، سلیمان بن بلال، عبداللہ بن دینار، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ساٹھ سے بھی کچھ اوپر شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
|
|
|
|
باب 4 |
|
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
|
|
مسلمان وہ ہے جس نے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے دوسرے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 9 |
| حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
|
| شعبی نے حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ س روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلان وہ ہے جس نے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے دوسرے مسلمانوں کو محفوظ رکھا اور حقیقی مہاجر وہ ہے جس نے ان کاموں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امام بخاری ابو معاویہ، داؤد بن ابو ہند، عامر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔۔۔۔ عبدالاعلیٰ، داؤد عامر، حضرت عبداللہ نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کی۔
|
|
|
|
باب 5 |
|
أَىُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ
|
|
افضل اسلام کیا ہے؟
|
|
|
|
حدیث نمبر 10 |
| حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ قَالَ " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ".
|
| سعید بن یحیٰی بن سعید اُموی قرشی، ان کے والد ماجد، ابوبُردہ بن عبداللہ بن ابی بُردہ، ابی بُردہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: لوگ عرض گزار ہوئے کہ یارسول اللہ! افضل اسلام کیا ہے؟ فرمایا کہ جس نے اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے دوسرے مسلمانوں کو محفوظ رکھا۔
|
|
|
|
باب 6 |
|
إِطْعَامُ الطَّعَامِ مِنَ الإِسْلاَمِ
|
|
کھانا کھلانا بھی اسلام ہے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 11 |
| حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ " تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ ".
|
| حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سوال کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہتر اسلام کیا ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ اور سلام کرو خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔
|
|
|
|
باب 7 |
|
مِنَ الإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ |
|
یہ بھی ایمان کا ایک حصہ ہے کہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 12 |
| حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. وَعَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ".
|
| مسدّد، یحیٰی، شعبہ، قتادہ، حضرت انس نے مرفوعاً حسین معلم، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کامل مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے
|
|
|
|
باب 8 |
|
حُبُّ الرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الإِيمَانِ
|
|
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت ایمان ہے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 13 |
| حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ ".
|
| اعراج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے توایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میرے جان ہے تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اُسے اُس کے والد اور اُس کی اولاد سے عزیز تر ہوجاؤں۔
|
|
حدیث نمبر 14 |
| حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ".
|
| یعقوب بن ابراہیم، ابن علیہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔ آدم بن ابو ایاس، شعبہ، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی مومن نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے عزیز تر ہوجاؤں۔
|
|
|
|
باب 9 |
|
حَلاَوَةِ الإِيمَانِ |
|
ایمان کی لذّت
|
|
|
|
حدیث نمبر 15 |
| حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ ". |
| حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں جس میں ہونگی اس نے ایمان کی حلاوت پالی۔ 1) یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے دوسروں سے زیادہ محبوب ہوجائیں اور 2) یہ کہ آدمی کسی سے محبت رکھے تو صرف اللہ کے لیے رکھے اور 3) کفر میں واپس جانے کو یوں نا پسند کرے جیسے اِسے ناپسند کرتا ہے کہ اسے آگ میں ڈالا جائے۔
|
|
|
|
باب 10 |
|
عَلاَمَةُ الإِيمَانِ حُبُّ الأَنْصَارِ |
|
انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے
|
|
|
|
حدیث نمبر 16 |
| حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " آيَةُ الإِيمَانِ حُبُّ الأَنْصَارِ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ ". |
| عبداللہ بن جبیر کا بیان ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا :۔ انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے عداوت رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
|
|
|
|
باب 11 |
|
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیعت کا زکر
|
|
|
|
حدیث نمبر 17 |
| حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا، وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ " بَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلاَ تَسْرِقُوا، وَلاَ تَزْنُوا، وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ، وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلاَ تَعْصُوا فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ فِي الدُّنْيَا فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَهُوَ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ ". فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ. |
| حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے جو غزوہ بدر میں شریک تھے اور بیعت عقبہ والوں میں ایک نقیب تھے کہ شمع رسالت کو پروانوں نے جھرمٹ میں لیا ہوا تھا اور آپ نے ان سے فرمایا:۔ مجھ سے اِس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروگے، زنا نہیں کروگے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگے، جانتے بوجھتے کسی پر بہتان نہیں باندھوگے اور نیکی کے کاموں میں نافرمانی نہیں کروگے۔ تم میں سے جس نے یہ عہد پورا کیا تو اس کا اجر اللہ تعالی کے زمہ کرم پر اور جو اِن میں سے کسی کے اندر مبتلا ہو جائے اور دنیا میں اس کی سزا ملی تو وہ اس کا کفارہ ہوگا اور جو اِن میں سے کسی بات میں پڑا، پھر اللہ نے اس پر پردہ ڈالے رکھا تو وہ اللہ کے سپرد کہ چاہے معاف فرمائے اور چاہے اُسے سزا دے۔ ہم نے اِس بات پر آپ سے بیعت کی۔
|
|
|
|
باب 12 |
|
مِنَ الدِّينِ الْفِرَارُ مِنَ الْفِتَنِ |
|
فتنوں سے بھاگنا دین کا حصہ ہے
|
|
|
|
حدیث نمبر 18 |
| حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ ". |
| عبداللہ بن مسلمہ، مالک، عبدالرحمن بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابوصعصہ، ان کے والد ماجد نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال اُس کی بکریاں ہونگی جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور چٹیل میدانوں میں اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کی خاطر بھاگتا پھرے گا۔ |
|
|
|
باب 13 |
|
قَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ وَأَنَّ الْمَعْرِفَةَ فِعْلُ الْقَلْبِ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ}. |
|
نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد کہ مجھے اللہ تعالیٰ کا تمہاری نسبت زیادہ علم ہے اور معرفتِ دل کا فعل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ بلکہ تمہیں ان چیزوں پر پکڑے گا جو تمہارے دلون نے کمائیں۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 19 |
| حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ قَالُوا إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ. فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ثُمَّ يَقُولُ " إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمَكُمْ بِاللَّهِ أَنَا ". |
| حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لوگوں کو ہمیشہ ان کاموں کا حکم فرماتے جو ان کی بساط کے اندر ہوتے۔ لوگ عرض گزارہوئے کہ یا رسول اللہ! ہم آپ جیسے تو نہیں ہیں کیونکہ آپ کی خاطر تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے پچھلے اور اگلے گناہ معاف فرمادیے ہیں۔ آپ ناراض ہوئے کہ پرنور چہرے پر ناراضگی نمایاں تھی، پھر فرمارہے تھے کہ میں تم میں سے زیادہ خدا ترس اور اللہ کا زیادہ علم رکھنے والا ہوں۔
|
|
|
|
باب 14 |
|
مَنْ كَرِهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ |
|
جو کفر میں لوٹنے کو یوں ناپسند کرے جیسے ناپسند کرتا ہے کہ آگ میں ڈالا جائے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 20 |
| حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَمَنْ أَحَبَّ عَبْدًا لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَمَنْ يَكْرَهُ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْقَذَهُ اللَّهُ، كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ ". |
| حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں تین چیزیں ہوں اس نے ایمان کی لذّت حاصل کر لی۔ 1) یعنی جس کو اللہ اور اس کا رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں اور 2) جو کسی بندے سے محبت رکھے تو صرف اللہ کے لیے محبت رکھے اور 3) کفر میں لوٹنے کو جب کہ اللہ نے اس سے بچا لیا ہے یوں ناپسند کرے جیسے اسے ناپسند کرتا ہے کہ اسے آگ میں ڈالا جائے۔
|
|
|
|
باب 15 |
|
تَفَاضُلِ أَهْلِ الإِيمَانِ فِي الأَعْمَالِ |
|
اعمال کے لحاظ سے اہلِ ایمان کی ایک دوسرے پر فضیلت
|
|
|
|
حدیث نمبر 21 |
| حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَا ـ أَوِ الْحَيَاةِ، شَكَّ مَالِكٌ ـ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً ". قَالَ وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرٌو " الْحَيَاةِ ". وَقَالَ " خَرْدَلٍ مِنْ خَيْرٍ ". |
| حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہے اسے نکال لو۔ پس اس سے نکال لیے جائیں گے جو سیاہ ہو چکے ہونگے پس وہ نہر حیا یا نہرِ حیات میں ڈالے جائیں گے۔ امام مالک کو شک ہے۔ پس وہ یوں اُگیں گے جیسے جاری پانی کے کنارے دانہ اگتا ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ زرد پٹھا نکلتا ہے۔ وہیب نے کہا کہ ہم سے حدیث بیان کرتے ہوئے عمرو نے نہر حیات کہا نیز رائی کے برابر بھلائی۔
|
|
حدیث نمبر 22 |
| حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَىَّ، وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ، وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ ". قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " الدِّينَ ". |
| ابو امامہ بن سہل بن حُنیف نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا تو میں نے دیکھا کہ مجھ پر لوگ پیش کیے جا رہے ہیں۔ جن کے اوپر قمیص ہیں۔ بعض کی قمیص سینے تک اور بعض کی کچھ نیچے تک ہے۔ مجھ پر عمر بن خطاب کو پیش کیا گیا جن پر قمیص تھی جسے گھسیٹ رہے تھے۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! آپ نے کیا تعبیر لی؟ فرمایا کہ دین۔
|
|
|
|
باب 16 |
|
الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ |
|
حیا ایمان کا حصہ ہے |
|
|
|
حدیث نمبر 23 |
| حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنَ الإِيمَانِ ". |
| عبداللہ بن یوسف، مالک بن انس، ابنِ شہاب، سالم بن عبداللہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا گزر انصار کے ایک فرد کے پاس سے ہوا جو اپنے بھائی کو حیا کے متعلق نصیحت کر رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جانے دو کیونکہ حیا تو ایمان کا ایک حصہ ہے۔ |
|
|
|
باب 17 |
|
{فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاَةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ} |
|
اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 24 |
| حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُسْنَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَوْحٍ الْحَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلاَةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلاَّ بِحَقِّ الإِسْلاَمِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ". |
| عبداللہ بن محمد مسندی، ابو روح حرمی بن عمارہ، شعبہ، واقد بن محمد سے روایت ہے کہ میرے والد ماجد نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ نیز محمد مصطفیٰ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ جب ایسا کریں تو انہوں نے اپنے خون اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا مگر جو اسلام کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ نے لینا ہے۔
|
|
|
|
باب 18 |
|
مَنْ قَالَ إِنَّ الإِيمَانَ هُوَ الْعَمَلُ لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {وَتِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِي أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ}. وَقَالَ عِدَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ * عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ} عَنْ قَوْلِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. وَقَالَ {لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ}. |
|
جس نے کہا کہ ایمان عمل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے، ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے"۔ کتنے ہی اہلِ علم حضرات نے کہا کہ ارشاد ربانی تمہارے رب کی قسم، ہم ان سب سے ضرور پوچھیں گے جو وہ کرتے تھے"۔ اس سے مراد لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور فرمایا: "اسی طرح عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے"۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 25 |
| حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ فَقَالَ " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ". قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قِيلَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ " حَجٌّ مَبْرُورٌ ". |
| احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل، ابراہیم بن سعد، ابنِ شہاب سعید بن مسیّب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ عرض کی گئی کہ پھر کونسا ہے؟ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ عرض کی گئی کہ پھر کونسا ہے؟ فرمایا کہ حج جو برائیوں سے پاک ہو۔
|
|
|
|
باب 19 |
|
إِذَا لَمْ يَكُنِ الإِسْلاَمُ عَلَى الْحَقِيقَةِ وَكَانَ عَلَى الاِسْتِسْلاَمِ أَوِ الْخَوْفِ مِنَ الْقَتْلِ, لِقَوْلِهِ تَعَالَى {قَالَتِ الأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا}. فَإِذَا كَانَ عَلَى الْحَقِيقَةِ فَهُوَ عَلَى قَوْلِهِ جَلَّ ذِكْرُهُ {إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإِسْلاَمُ} {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ} |
|
جب حقیقی طور پر اسلام مراد نہ ہو بلکہ قتل ہونے کے خوف سے اسلام کا دعویٰ کیا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے بدووں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے۔ فرمادو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور جب حقیقتاً مراد ہو جیسے ارشادِ ربّانی ہے: بے شک دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 26 |
| حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدٍ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَجُلاً هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَىَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا. فَقَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". فَسَكَتُّ قَلِيلاً، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلاَنٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ " أَوْ مُسْلِمًا ". ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي وَعَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " يَا سَعْدُ، إِنِّي لأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ". وَرَوَاهُ يُونُسُ وَصَالِحٌ وَمَعْمَرٌ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ. |
| عامر بن سعد بن ابی وقاص نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو مال عطا فرمایا اور حضرت سعد بیٹھے ہوئے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اور وہ مجھے ان میں سب سے پسند تھا۔ میں عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہ! فلاں کے متعلق کیا بات ہے؟ خدا کی قسم، میری نظر میں تو وہ مومن ہے۔ فرمایا یا مسلمان۔ تھوڑی دیر تو میں خاموش رہا۔ پھر جو میں اس کے متعلق جانتا تھا اس نے مجھ پر غلبہ کیا لہٰذا اپنی پات کو دہراتے ہوئے عرض گزار ہو کہ فلاں کے متعلق کیا بات ہے جب کہ خدا کی قسم، میری نظر میں وہ مومن ہے۔ فرمایا یا مسلمان۔ پس میں تھوڑی دیر خاموش رہا۔ پھر جو میں اس کے متعلق جانتا تھا اس نے مجھ پر غلبہ کیا تو میں نے اپنی بات دہرائی اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بھی وہی ارشاد ہوا۔ پھر فرمایا کہ اے سعد میں ایک آدمی کو مال دیتا ہوں جب کہ دوسرا مجھے اس سے پیارا ہوتا ہے اس خدشے سے کہ مبادا اسے اللہ تعالیٰ جہنم میں پھینک دے۔ روایت کیا اسے یونس اور صالح اور معمر اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے۔
|
|
|
|
باب 20 |
|
إِفْشَاءُ السَّلاَمِ مِنَ الإِسْلاَمِ وَقَالَ عَمَّارٌ ثَلاَثٌ مَنْ جَمَعَهُنَّ فَقَدْ جَمَعَ الإِيمَانَ الإِنْصَافُ مِنْ نَفْسِكَ، وَبَذْلُ السَّلاَمِ لِلْعَالَمِ، وَالإِنْفَاقُ مِنَ الإِقْتَارِ. |
|
سلام کو پھیلانا اسلام کا ایک حصہ ہے اور حضرت عمّار نے فرمایا کہ جس نے تین چیزوں کو جمع کر لیا اس نے ایمان کو جمع کر لیا۔ اپنی جان کے مقابلے میں انصاف کرنا، سلام کو دنیا میں پھیلانا اور افلاس کے اندر خرچ کرنا۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 27 |
| حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ " تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ ".. |
| ابوالخیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کونسا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ اور سلام کرو خواہ اُسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو۔
|
|
|
|
باب 21 |
|
كُفْرَانِ الْعَشِيرِ وَكُفْرٍ دُونَ كُفْرٍ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. |
|
خاوند کی ناشکری اور یہ کہ ایک کفر دوسرے دوسرے سے کمتر ہے۔ اس کے متعلق حضرت ابوسعید کی مرفوع حدیث ہے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 28 |
| حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ يَكْفُرْنَ ". قِيلَ أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ " يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ ". |
| عطاء بن یسار نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دوزخ دکھائی گئی تو اس میں زیادہ تر عورتیں تھیں کیونکہ کفر کرتی ہیں۔ عرض کی گئی کہ کیا اللہ کے ساتھ کفر کرتی ہیں! فرمایا کہ خاوند کی ناشکری کرتی اور احسان کا انکار کر دیتی ہیں۔ اگر تم کسی کے ساتھ عمر بھر بھی نیکیاں کرو، پھر تم سے ایک تکلیف پہنچ جائے تو کہ دے گی کہ میں نے آپ سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔
|
|
|
|
باب 22 |
|
الْمَعَاصِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ وَلاَ يُكَفَّرُ صَاحِبُهَا بِارْتِكَابِهَا إِلاَّ بِالشِّرْكِ لِقَوْلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ ". وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى {إِنَّ اللَّهَ لاَ يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} {وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا} فَسَمَّاهُمُ الْمُؤْمِنِينَ |
|
گناہ جاہلیت کے کام ہیں اور شرک کے سوا ان کے مرتکب کو کافر نہ کہا جائے جیسے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت موجود ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " بےشک اللہ تعالیٰ نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا جس کو چاہے بخش دے گا اور ایمان والوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو دونوں میں صلح کرادو یعنی دونوں کا نام ایمان والے رکھا۔
|
|
|
|
ف: اس باب میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے تصریحاً لکھ دیا کہ شرک کے سوا کسی بھی گناہ کے مرتکب کی تکفیر نہیں کی جائے گی تو ثابت ہوا کہ اعمال ایمان میں شامل نہیں ہیں اور ساتھ ہی ایک آیت سے استدلال کر کے بتایا کہ مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑپڑیں تو ان میں سے کسی گروہ کو کافر قرار نہیں دیا جائےگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فریقین کو مومنین کہا ہے۔ جیسا کہ خود امام بخاری علیہ الرحمہ نے آیت کے مفاد کو فَسَمَّاھُمُ الْمُؤْمِنِينَ سے ظاہر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس بارے میں موقف وہی زیادہ صحیح ہے جس پر امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل نہیں بلکہ اس کا حسن و جمال ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 29 |
| حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ ذَهَبْتُ لأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ. قَالَ ارْجِعْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ ". فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْقَاتِلُ فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ " إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ ". |
| احنف بن قیس نے فرمایا کہ میں اس شخص (حضرت علی) کی مدد کے ارادے سے گیا تو مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مل گئے۔ فرمایا! کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا کہ اس شحص کی مدد کا۔ فرمایا لوٹ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی تعالیٰ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب دو مسلمان اپنی تلواروں کے ساتھ ملیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں ہیں۔ میں عرض گزار ہوا کہ یا رسول اللہ! قاتل کے متعلق تو درست لیکن مقتول کیوں؟ فرمایا کہ وہ بھی اپنے حریف کو قتل کرنے کا تمنائی تھا۔
|
|
حدیث نمبر 30 |
| حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ، عَنِ الْمَعْرُورِ، قَالَ لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، وَعَلَى غُلاَمِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلاً، فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا أَبَا ذَرٍّ أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ، إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ ". |
| معرور کا بیان ہے کہ ربذہ کے مقام پر میری حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی جب کہ انھوں نے اور ان کے غلام نے ایک جیسے جوڑے زیب تن کیے ہوئے تھے۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: میں نے ایک آدمی کو گالی دی اور اس کی ماں کا طعنہ دیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! تم اس کی ماں کا طعنہ دیتے ہو، تمہارے اندر جاہلیت کا اثر باقی ہے تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کیا ہے۔ پس جو تم کھاتے ہو وہی انھیں کھلاؤ اور جو تم پہنتے ہو وہی انھہیں پہناؤ اور انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان پر غالب آجائے اور اگر تکلیف دو تو خود بھی ان کی مدد کرو۔
|
|
|
|
باب 23 |
|
ظُلْمٌ دُونَ ظُلْمٍ |
|
ایک ظلم دوسرے سے کم ہے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 31 |
| حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح. قَالَ وَحَدَّثَنِي بِشْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ}. |
| ابوالولید، شعبہ۔۔۔۔ بشر، محمد، شعبہ، سلیمان، ابراہیم، علقمہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب وحی، " جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمانوں کو ظلم سے نہ ملایا" (6:86) نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا: ہم میں سے کون ہے جو ظلم نہیں کرتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی " بےشک شرک بہت بڑا ظلم ہے"۔ (13:31)
|
|
|
|
باب 24 |
|
عَلاَمَةِ الْمُنَافِقِ |
|
منافق کی علامت
|
|
|
|
حدیث نمبر 32 |
| حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ". |
| نافع بن مالک بن ابوعامر ابو سہیل کے والد ماجد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ 1) بات کرے تو جھوٹ بولے گا۔ 2) وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے گا اور 3) امانت اس کے پاس رکھی جائے تو خیانت کرے گا۔
|
|
حدیث نمبر 33 |
| حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ". تَابَعَهُ شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ. |
| مسروق نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: چار باتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک ہو تو اس میں نفاق کا ایک حصہ ہے، یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔ 1) جب امانت سپرد کی جائے تو خیانت کرے 2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے، 3) جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور 4) جب جھگڑے تو بیہودہ بکے۔ متابعت کی ہے اس کی شعبہ نے اعمش سے۔
|
|
|
|
باب 25 |
|
قِيَامُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ مِنَ الإِيمَانِ |
|
شب قدر کا قیام ایمان کا ایک حصہ ہے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 34 |
| حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ يَقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". |
| اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شب قدر کے اندر ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کرے اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
|
|
|
|
باب 26 |
|
الْجِهَادُ مِنَ الإِيمَانِ |
|
جہاد ایمان کا ایک حصہ ہے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 35 |
| حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " انْتَدَبَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ لاَ يُخْرِجُهُ إِلاَّ إِيمَانٌ بِي وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، أَوْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَلَوْلاَ أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ". |
| حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے زمہ لیا ہے کہ جو میری راہ میں نکلے اور نہ نکالے اسے مگر مجھ پر ایمان رکھنا یا میرے رسول کی تصدیق کرنا تو اسے حاصل کردہ اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیجوں یا جنت میں داخل کردوں"۔ اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا تو میں مجاہدوں کے کسی دستے میں شامل ہونے سے نہ رکتا کیونکہ میں پسند کرتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں، پھر مجھے زندہ کیا جائے، پھر شہید کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جائے، پھر شہید کردیا جاؤں۔
|
|
|
|
باب 27 |
|
تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنَ الإِيمَانِ |
|
رمضان کا نفلی قیام بھی ایمان کا حصہ ہے
|
|
|
|
حدیث نمبر 36 |
| حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". |
| حمید بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے اندر ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
|
|
|
|
باب 28 |
|
صَوْمُ رَمَضَانَ احْتِسَابًا مِنَ الإِيمَانِ |
|
رمضان کا نفلی قیام بھی ایمان کا حصہ ہے
|
|
|
|
حدیث نمبر 37 |
| حَدَّثَنَا ابْنُ سَلاَمٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". |
| ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
|
|
|
|
باب 29 |
|
الدِّينُ يُسْرٌ وَقَوْلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم " أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ ". |
|
دین آسان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو سیدھا اور معتدل دین زیادہ پسند ہے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 38 |
| حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهَّرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلاَّ غَلَبَهُ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا، وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَىْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ ". |
| سعید بن ابو سعید مقبری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک دین آسان ہے اور جو اسے مشکل بنائے گا تو یہ اس پر غالب آجائے گا۔ پس تم سیدھے رہو، اور بشارت قبول کرو نیز صبح و شام کی عبادت اور صدقہ خیرات سے مدد حاصل کرو۔
|
|
|
|
باب 30 |
|
الصَّلاَةُ مِنَ الإِيمَانِ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ} يَعْنِي صَلاَتَكُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ. |
|
نماز ایمان کا حصہ ہے۔ ارشاد ربّانی ہے: اللہ کا یہ کام نہیں کہ تمہارے ایمانوں یعنی تمہاری نمازوں کو بیت اللہ کے پاس ضائع کر دے۔
|
|
|
|
حدیث نمبر 39 |
| حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى أَجْدَادِهِ ـ أَوْ قَالَ أَخْوَالِهِ ـ مِنَ الأَنْصَارِ، وَأَنَّهُ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَأَنَّهُ صَلَّى أَوَّلَ صَلاَةٍ صَلاَّهَا صَلاَةَ الْعَصْرِ، وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ، فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ، وَهُمْ رَاكِعُونَ فَقَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قِبَلَ مَكَّةَ، فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَكَانَتِ الْيَهُودُ قَدْ أَعْجَبَهُمْ إِذْ كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَأَهْلُ الْكِتَابِ، فَلَمَّا وَلَّى وَجْهَهُ قِبَلَ الْبَيْتِ أَنْكَرُوا ذَلِكَ. قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ فِي حَدِيثِهِ هَذَا أَنَّهُ مَاتَ عَلَى الْقِبْلَةِ قَبْلَ أَنْ تُحَوَّلَ رِجَالٌ وَقُتِلُوا، فَلَمْ نَدْرِ مَا نَقُولُ فِيهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى {وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ} |
| حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ میں جلوہ افروز ہوئے تو اپنی ننہال میں اترے یا فرمایا کہ اپنے انصاری مامووں کے پاس اور آپ سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے تھے اور چاہتے تھے کہ بیت اللہ قبلہ مقرر فرما دیا جائے۔ آپ نے پہلی نماز جو اس کی طرف پڑھی وہ نماز عصر تھی اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے کسی کا گزر ایک مسجد کے پاس سے ہوا جو نماز پڑھ رہے تھے اس نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ پس وہ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے جب کہ بیت المقدس کی جانب متوجہ ہو کر نماز پڑھا جانا یہود اور دوسرے اہلِ کتاب کو پسند تھا۔ جب انھوں نے بیت اللہ کی طرف منہ کر لیے تو یہ بات اُن پر گراں گزری۔ زہرہ، ابواسحاق، حضرت براء نے اپنی حدیث میں فرمایا کہ جو لوگ تحویلِ قبلہ سے پہلے فوت ہوگئے یا شہید کر دیئے گئے تو ہم نہیں جانتے تھے کہ ان کے متعلق کیا کہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی " اللہ کا یہ کام نہیں کے تمہارے ایمانوں کو ضائع کر دے"۔
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
| |